Falkiyat Ki Tareekh (13)
تقریباً چھٹی صدی قبل مسیح میں جب بابل کے علماء سیاروں کی حرکات کے ریکارڈ مرتب کر رہے تھے، اسی زمانے میں بحیرۂ ایجیئن کے مغربی کنارے پر یونان کی چھوٹی چھوٹی شہری ریاستوں میں ایک بالکل مختلف قسم کی سوچ جنم لے رہی تھی۔ میسوپوٹیمیا میں بنیادی زور مشاہدے اور ریکارڈ پر تھا، جبکہ یونانی مفکر ایک اور سوال پوچھ رہے تھے۔ آسمان میں یہ سب کچھ آخر ہوتا کیوں ہے؟ سورج، چاند اور ستاروں کی حرکت کے پیچھے کیا اصول کارفرما ہیں؟ یہی سوال آنے والی کئی صدیوں تک یونانی فلکیات کی بنیاد بن گیا۔
اس دور کے ابتدائی مفکرین میں تھیلز (Thales of Miletus) کا نام نمایاں ہے، جس کی زندگی تقریباً 624 سے 546 قبل مسیح تک رہی۔ اسے مغربی دنیا کے اولین فلاسفہ اور قدرتی علوم کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تھیلز کی سب سے بڑی اہمیت اس بات ہے کہ اس نے قدرتی مظاہر کو دیومالائی کہانیوں کے بجائے فطری اسباب سے سمجھنے کی کوشش کی۔ قدیم روایات کے مطابق اس نے 585 قبل مسیح کے سورج گرہن کی پیش گوئی کی........
