menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Faail e Ilmi Aur Kashaf e Haqiqat

29 0
15.03.2026

فاعل علمی اور کشفِ حقیقت

امام عالی مقام الغزالیؒ "منقذ" میں فرماتے ہیں کہ عقلی علوم اپنی ضرورت تو پوری کرتے ہیں لیکن میری ضرورت پوری نہیں کرتے۔ عقلی علوم پر یہ امام صاحب کی حتمی ججمنٹ ہے کہ وہ ریاضی اور منطق پر بالکل پورے اترتے ہیں جو ان علوم کی بنیادی ترین تشکیلی ضرورت ہے۔ لیکن عقلی علوم انسان کی کوئی نفسی اور وجودی ضرورت پوری نہیں کرتے اور نہ کر سکتے ہیں۔ امام صاحب کا یہ ارشاد بہت بصیرت انگیز ہے کہ تصوراتی علوم (conceptual knowledge) انسان کی انفسی ضروریات کے اعتبار سے غیراہم ہیں جبکہ انسان کی "اپنی" ضروریات صرف غیرتصوراتی علوم (non-conceptual knowledge) سے ہی پوری ہو سکتی ہیں۔

امام صاحب نے عقلی علوم اور انسان اور عقلی علوم اور دنیا کے حوالے سے یہ بات کہی ہے اور ان کا یہ ارشاد انسان اور اس کی علمی ضروریات کو سمجھنے کے لیے اہم ہے لیکن ان کے ہاں کسی "فاعل علمی" کا کوئی بیان نہیں جو تاریخ میں بہت آگے چل کر رینی ڈیکارٹ کے ہاں سامنے آ کر متشکل ہوا۔ اگر انسانی معاشروں میں عقیدے اور مذہب کا خاتمہ ہو جائے تو تصوراتی علوم کا غلبہ ہو جاتا ہے اور اگر معاشروں کی روایت میں عقل کا خاتمہ ہو جائے تو تصوراتی اور غیرتصوراتی دونوں طرح کے علوم کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ بہرحال۔

ڈیکارٹ نے علم کی اساس کو ایک وقوفی........

© Daily Urdu