menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Long March, Barbadi Kis Ki

25 0
07.10.2026

لانگ مارچ، بربادی کس کی

عوام پریشان، ٹرانسپورٹر خوار، اسلام آباد کنٹینروں کا شہر آخر یہ کس کی نوید سنائی جارہی ہے۔

پاکستان کی سیاست میں احتجاج، جلسہ، ریلی اور لانگ مارچ کوئی نئی روایت نہیں۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا حصہ ہے اور سیاسی جماعتوں کو اپنے مطالبات عوام تک پہنچانے اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی جان و مال، ریاستی تنصیبات اور معمول کی زندگی کا تحفظ کرے۔

لیکن سوال وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں سیاسی کشمکش کا میدان سڑکیں بن جائیں، سڑکوں پر کنٹینر کھڑے ہوجائیں، کاروبار متاثر ہو، مسافر راستوں میں پھنس جائیں اور ایک سیاسی مطالبے کی قیمت پورا معاشرہ ادا کرنے لگے۔

آج کا بنیادی سوال یہی ہے: آخر ہم کیا کرنا چاہتے ہیں؟

کیا ہم سیاست کو عوام کی خدمت کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں یا عوام کو سیاست کی کشمکش میں یرغمال بنانا چاہتے ہیں؟

حالیہ دنوں میں اسلام آباد اور راولپنڈی کے راستوں پر بڑی تعداد میں کنٹینرز رکھے گئے اور سکیورٹی انتظامات غیر معمولی سطح تک پہنچے۔ رپورٹس کے مطابق دارالحکومت اور اٹک کے اہم مقامات پر ہزاروں کنٹینرز تعینات کیے گئے جبکہ پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد ہر ضلع سے بھی طلب کی گئی۔

یہ صرف ایک سیاسی جماعت اور حکومت کا معاملہ نہیں رہا۔ اس کا براہِ راست تعلق اس شہری سے ہے جو روزانہ روزگار کے لیے گھر سے نکلتا ہے، اس طالب علم سے ہے جو تعلیمی ادارے پہنچتا ہے، اس مریض سے ہے جسے ہسپتال جانا ہوتا ہے، اس دکاندار سے ہے جس کی روزانہ کی فروخت پر گھر کا چولہا جلتا ہے اور اس ٹرانسپورٹر سے ہے جس کا ٹرک ملکی معیشت کا سامان ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچاتا ہے۔

کنٹینر صرف لوہے کا ڈبہ نہیں

ہم اکثر سڑک پر کھڑے کنٹینر کو صرف ایک رکاوٹ سمجھتے ہیں، مگر حقیقت میں اس کے پیچھے ایک پورا معاشی نظام موجود ہوتا ہے۔

کنٹینر کسی ٹرانسپورٹر کی ملکیت ہوسکتا ہے، اس کے اندر کروڑوں روپے کا سامان ہوسکتا ہے، ڈرائیور اور ہیلپر اس کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں، گاڑی کے مالک کی روزانہ آمدنی اس سے وابستہ ہوتی ہے اور سامان کی منزل تک بروقت پہنچنا کاروباری زنجیر کا حصہ ہوتا ہے۔

ٹرانسپورٹرز نے حالیہ صورتِ حال میں شکایت کی کہ ان کے کنٹینر اور گاڑیاں سیاسی احتجاج کی روک تھام کے لیے استعمال کی جارہی ہیں۔ ایک........

© Daily Urdu