menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Peerana Sali Qayadat Ki Aahni Girift Aur Youth

31 0
06.09.2026

پیرانہ سال قیادت کی آہنی گرفت اور یوتھ

بڑھتی عمر کے متعلق بہت سے رویے موجود ہیں۔ کچھ کے نزدیک عمر فقط ایک عددی سنگ میل ہے، زندگی کی توانائی اور جوش کا تعلق تو ذہن اور سوچ سے ہے۔ ایک اور معروف محاورے کے مطابق دل جوان ہونا چاہیے، عمروں کے حساب میں کیا رکھا ہے۔

ایک اور محاورے کے مطابق زندگی کا اصل آغاز تو ہوتا ہی 40 سال کی عمر سے ہے، نسبتاً جوان یا نوجوان احباب کا خیال ہے کہ یہ سب خوشنما مفروضے بڑھتی عمر والے لوگوں نے اپنے دل اور دوسروں کو سمجھانے کے لیے وضع کر رکھے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ اسی سوچ کے بل پر بیشتر عمررسیدہ لوگ سیاست، قیادت اور کاروبار میں کم عمر لوگوں کے لیے جگہ خالی نہیں کرتے۔

عمر رسیدہ اگر طاقتور عہدوں، وسائل اور اقتدار پر غالب ہوں تو ان کی اس سوچ کے اثرات پورے ملک کی سیاسی، معاشرتی اور معاشی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ امریکا کی مثال لیں جو دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور عالمی طاقت ہے، وہاں حکومتی اور غیرحکومتی عہدوں پر عمررسیدہ لوگوں کا آہنی کنٹرول ہے۔

سینیٹ کے ممبران کی اوسط عمر 64 سال ہے۔ معمر ترین سینیٹر کی عمر 92 سال اور کم عمر ترین سینیٹر کی عمر 39 سال ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے ججز ریٹائر نہیں ہوتے، ان کے عہدے کی معیاد لائف ٹائم ہے۔ اس وقت سپریم کورٹ ججز کی اوسط عمر 66 سال ہے۔ زیادہ تر ججز 80 سال سے زائد عمر تک عہدے پر فائز رہے ہیں۔

ایک حالیہ سروے میں یہ حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ امریکا میں بڑی کارپوریشنز کے سربراہان کی اوسط عمر 2000 میں 48 سال تھی جو 2026میں 61 سال ہو چکی ہے۔ امریکا کی سیاست میں کانگریس اور سینیٹ کے ساتھ ساتھ امریکی صدر کی عمر بھی حالیہ سالوں میں زیربحث رہی ہے۔ جوبائیڈن دو سال قبل 81 سال کی عمر میں الیکشن کے لیے میدان میں اترے۔

پبلک اجتماعات اور میٹنگز........

© Daily Urdu