Khwabon Ka Musafir
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے اس دور نے کمیونیکیشن، علم، شعور اور باہم انسانی تعلقات کو گویا نئے سرے سے لکھنا شروع کر رکھا ہے۔ زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے یا قیامت برپا کر رہا ہے، یہ آنے والا وقت طے کرے گا۔
انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور اب اے آئی نے روایتی صحافت، الیکٹرانک میڈیا اور ان کے ناظرین اور قارئین کی توقعات اور عادات کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ تاہم تبدیلی کا غلغلہ دیکھنے کے بعد ماہرین سوچ میں ہیں کہ معلومات کا سمندر تو ٹھاٹھیں مار رہا ہے لیکن علم اور دانش کے موتی ڈھونڈنا مشکل تر ہوگیا ہے۔
رائے زنی کا ہمہ وقت جوش تو عروج پر ہے لیکن رائے قائم کرنے کے لیے تحمل، مطالعہ، تدبر اور تفکر کا کشٹ کاٹنے کو خال ہی کوئی تیار ہے۔ یہ سب باتیں ہمیں اردو صحافت میں کالمز کی بطور رائے سازی کے بدلتے رجحانات دیکھ کر یاد آ رہی ہیں۔
معروف صحافی، وسیع ذاتی لائبریری کے حامل، وسیع المطالعہ اور پختہ عمری میں کالم نگاری میں قدم رکھنے والے دلاور چوہدری کے کالمز اور ان کی حالیہ کتاب "خواب لیے پھرتا ہوں " نے سوچ کے اس زاویے کو دستک دی ہے۔
ہمارے ہاں کالم نگاری کئی دہائیوں کے دوران روزمرہ سیاست پر تبصرے کے ساتھ ساتھ ایک فکری اور ادبی روایت رہی۔ اس روایت کے معمار وہ لوگ تھے جن کا قلم کے ساتھ ساتھ کتاب سے رشتہ تھا۔ اردو صحافت کی خوش نصیبی تھی کہ اسے عبدالمجید سالک، چراغ حسن حسرت، حاجی لق لق، غلام رسول مہر، شورش کاشمیری، حمید اختر، رئیس امروہوی، ابنِ انشا اور دوسرے ایسے اہلِ قلم میسر آئے جنھوں نے صحافت میں کالم نگاری کو ایک منفرد معیار اور شناخت دی۔
عبدالمجید سالک نے شائستہ........
