Pathar Ke Zamane Se AI Tak (7)
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک (7)
جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا تھا، سائرن بجتے تھے اور پورے شہر میں اندھیرا ہو جاتا تھا، حکومت نے تمام گھروں کے شیشے تک کالے کرا دیے تھے، کھڑکیوں پر پردے لازم تھے، رات کے وقت کھڑکیوں کے سامنے پردے تاننا لازم تھا، سائرن کے فوراً بعد شہر کی بجلی بند کر دی جاتی تھی جس کے بعد لالٹین، لیمپ یا دیا جلانا منع تھا، آٹھ بجے کے بعد کوئی شخص گھر سے باہر نہیں نکل سکتا تھا چناں چہ شہر میں ہو کا عالم ہوتا تھا۔
سردیوں کا زمانہ تھا، اس دور میں سردی بھی زیادہ پڑتی تھی، لوگ گھروں میں کوئلے کی انگیٹھیاں یا لکڑیاں جلاتے تھے، سائرن کے بعد ان کو بھی کور کر دیا جاتا تھا یا پھر ان پر پانی ڈال کر بجھا دیا جاتا تھا، یہ بندوبست ائیرسٹرائیک سے بچنے کے لیے تھا، بلیک آئوٹ کے بعد فضا میں طیارے اڑنے کی آوازیں آتی تھیں، یہ سلسلہ صبح تک جاری رہتا تھا، جنگ کے بعد پاکستان ٹوٹ گیا، میں بچہ تھا، مجھے ان چیزوں کا اندازہ نہیں تھا لیکن میں آج تک لوگوں کے غم میں ڈوبے چہرے نہیں بھول سکا۔
پاکستانی بے انتہا اداس بلکہ پریشان تھے، میں نے لوگوں کو دھاڑیں مار کر روتے بھی دیکھا، والد کا بنگالی دوست بھی روتا رہتا تھا، چھائونی میں بھی اداسی تھی، فوج جب محاذ سے واپس آئی تو فوجیوں کے سر جھکے ہوئے تھے، لوگ بھی ان کے استقبال کے لیے باہر نہیں آئے، آفیسر اب خریداری کے لیے بھی شہر نہیں آتے تھے، میجر مچھڑ کا تبادلہ لاہور ہو چکا تھا، وہ جنگ کے بعد دوبارہ نظر نہیں آیا، والد کا کاروبار بھی ڈائون ہونے لگا، فوج کے بجٹ پر کٹوتی لگ چکی تھی یا پھر چھائونی میں گیس آنے کی وجہ سے کوئلے کی ضرورت کم ہو چکی تھی۔
کوئی تبدیلی آئی تھی جس کا اثر کوئلے کی سپلائی پر پڑا تھا، بنگالی نے میرے والد کو مشورہ دیا "چودھری اس کاروبار کو چھوڑ دو، تم سفید کپڑے پہنتے ہو جب کہ اس کام میں ہاتھ اور منہ دونوں کالے ہوتے ہیں، کوئی سفید پوشوں والا کام کرو" اس کا دوسرا مشورہ تھا "تم کھاریاں چھوڑ دو، چھائونی کی وجہ سے اگلی جنگ میں اس پر حملہ ہو جائے گا، تم کسی محفوظ شہر میں چلے جائو" والد اس وقت تک کاروبار اور کھاریاں دونوں سے تنگ آ چکے تھے۔
ہماری دکان کے ساتھ ایک دکان دار کوئلے کا کاروبار کرتا تھا، وہ ہندوستان سے نقل مکانی کرکے کھاریاں آیا تھا، اس کا خاندان اسے ادب سے "بھیا" کہتا تھا، میرے والد بھی اسے اسی نام سے پکارتے تھے، بھیا 1947ء میں جب پاکستان آیا تو اسے لالہ موسیٰ میں گھر الاٹ ہوا، وہ غریب اور کم زور تھا لہٰذا اس کے مکان پر کسی نے قبضہ کر لیا تھا تاہم اس کے پاس الاٹمنٹ لیٹر موجود تھا، والد اس زمانے میں کوئی گھر تلاش کر رہے تھے۔ "بھیا" نے انہیں اپنا گھر آفر کر دیا، وہ مناسب قیمت پر اپنا گھر بیچنے کے لیے تیار تھا تاہم اس کا کہنا تھا "چودھری قبضہ تم نے خود لینا ہے" والد صاحب کے لیے قبضہ زیادہ مشکل نہیں تھا، ہمارا گائوں لالہ موسیٰ سے صرف چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا جس کی وجہ سے پورا گائوں قبضہ چھڑانے کے لیے شہر آ........
