Panch So Dollar
وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا، اس نے محمد منور کی تلاش میں بے شمار اشتہار دیئے، وہ اسے نیویارک، واشنگٹن، شکاگو اور ہیوسٹن میں بھی تلاش کرتا رہا، اس نے اسے فرینکفرٹ، میلان، ایمسٹرڈیم، پیرس، لندن اور برسلز میں بھی تلاش کیا اور وہ اس کی تلاش میں ٹوکیو، بیجنگ اور منیلا بھی گیا تھا لیکن محمد منور نہیں ملالیکن وہ اس کے باوجود زندگی میں ایک بار اپنے محسن سے ضرور ملنا چاہتا تھا، وہ سمجھتا تھا اگر محمد منور نہ ہوتا تو وہ آج اربوں روپے کا مالک نہ ہوتا۔
اس کی کمپنی چھ براعظموں میں کام نہ کر رہی ہوتی اور وہ پانچ چھ ہزار لوگوں کا چیف ایگزیکٹو نہ ہوتا۔ اس کا کہنا تھا اگر محمد منور زندہ نہیں تو اسے اس کے خاندان کا کوئی فرد چاہیے، اس کا کوئی بھائی ہو، اس کا والد ہو، اس کی بیوی، اس کا کوئی بچہ یا پھر اس کی کوئی بچی ہو، منور کے لواحقین میں سے کوئی نہ کوئی شخص تو دنیا میں موجود ہوگا، وہ بس اس شخص سے ملنا چاہتا تھا، اس کو اس کا حصہ دینا چاہتا تھا، اس کی مدد کرنا چاہتا تھا تا کہ اس کی روح کو قرار آ سکے۔
یہ کہانی میرے ایک دوست نے سنائی تھی اور یہ میرے دماغ میں چبائی ہوئی چیونگم کی طرح چپک کر رہ گئی تھی، کہانی کے مرکزی کردار کا نام شفیق الحق تھا، وہ آج سے 35 سال پہلے امریکا گیا، وہ برگر کی دکان پر کام کرتا تھا اور شام کے وقت ایم بی اے کی کلاسز لیتا تھا، اس کی زندگی گھڑی کی سوئیوں کی طرح چل رہی تھی، کلاک وائز، ٹک ٹک ٹک، صبح ایک مخصوص وقت پر جاگنا، آنکھیں ملتے ملتے کپڑے تبدیل کرنا، کافی کا مگ اٹھانا اور زیر زمین ٹرین میں سوار ہو جانا، راستے میں مشین کے ذریعے شیو کرنا، برگر شاپ پر پہنچ جانا، شام تک سیاحوں سے ٹپ وصول کرتے رہنا، کچن صاف کرنا، کچرے کے ڈبے سے کاغذی پیکنگ، پلیٹیں اور ٹرے نکالنا اور جس دن سویپر کی چھٹی ہوتی، اس دن باتھ روم بھی صاف کرنا، پانچ بجے دو برگر اٹھا کر کالج پہنچ جانا، لیکچر سننا، نوٹس لینا، لائبریری سے کتابیں اٹھانا، اسائنمنٹ کی پلاننگ کرنا اور رات دس بجے کمرے کی طرف چل پڑنا۔
وہ اپنے دوست کے ساتھ کمرہ شیئر کرتا تھا، اس کا دوست رات کی ڈیوٹی کرتا تھا اور صبح کمرے میں پہنچتا تھا جب کہ یہ رات کے وقت آتا تھا چنانچہ ایک بستر سے دونوں کا گزارہ ہو جاتا تھا، یہ زندگی خوفناک بھی تھی، پھیکی بھی، بے آرام........
