Mausami Parinday
"مجھے سمجھ نہیں آ رہی" نوجوان وزیر نے دانشور کے کان میں سرگوشی کی، دانشور کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی، نوجوان وزیر کی بات غلط نہیں تھی، وہ پڑھا لکھا تھا، ایمان دار تھا، وہ چودہ گھنٹے وزارت کا کام کرتا تھا، اس نے اپنی وزارت میں نئی اصلاحات بھی متعارف کرائیں تھیں، وہ مخلص بھی تھا اور اس کے دل میں قوم کا غم بھی موجزن رہتا تھا لیکن اس کے باوجود ترقی کا پہیہ آگے نہیں چل رہا تھا۔
ہم میں سے بے شمار لوگ زندگی میں اخلاص، محنت اور ایمان داری کے ساتھ کام کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارا کام ثمر آور نہیں ہوتا، ہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتے اور ہمیں اس لمحے محسوس ہوتا ہے گول اچیو کرنے کے لیے صرف ایمان داری، محنت اور اخلاص کافی نہیں ہوتا، اس کائنات میں کوئی ایسا خفیہ ہاتھ بھی موجود ہے جس کا ساتھ ترقی کے لیے ضروری ہوتا ہے اور آپ جب تک اس ہاتھ کی مدد حاصل نہیں کر لیتے اس وقت تک آپ پر ترقی کے دروازے نہیں کھلتے، نوجوان وزیر بھی اسی مسئلے کا شکار تھا، یہ بھی محنت، ایمان داری، علم اور اخلاص کو سب کچھ سمجھ بیٹھا تھا، اس نے بھی دن رات محنت کی لیکن رکاوٹ کی چٹان میں کوئی دراڑ نہ آئی چنانچہ وہ اب پریشانی کے عالم میں وجوہات تلاش کر رہا تھا۔
دانشور کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اور وہ چھوٹا سا فقرہ بول کر خاموش ہوگیا "اپروچ کا مسئلہ ہے" نوجوان وزیر کی حیرت میں اضافہ ہوگیا، نوجوان وزیر کی یہ حیرت بھی بجا تھی کیونکہ ہم میں سے اکثر لوگ اپروچ کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے، ہم یہ سمجھتے ہیں دو جمع دو ہمیشہ چار ہوتے ہیں چناں چہ ان کے بارے میں سوچ کر وقت ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، ہم کبھی یہ نہیں سوچتے ہم کون سے دو کو کس دو میں جمع کر رہے ہیں؟ اور ہمارے دو ہیں کیا؟ دو شیطان، دو شیطانوں کے ساتھ مل کر اکثر اوقات سو ہو جاتے ہیں اور دو صوفیوں کی طاقت دو صوفیوں کے ساتھ مل کر ہزار ہارس پاور ہو جاتی ہے اور دو پہیے، دو پہیوں کے ساتھ جمع ہو کر 20 ٹن کے ٹرالر کو متحرک کر دیتے ہیں اور ہٹلر جیسے دو برے انسان دو برے انسانوں کے ساتھ مل کر پوری دنیا کو برباد........
