menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Irani Kaise Log Hain (1)

63 0
07.04.2026

ایرانی لوگ کیسے ہیں (1)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں تھا، ہم اگر یہ کہیں ایرانی پاکستانیوں کو پسند نہیں کرتے تھے تو یہ غلط نہیں ہوگا، اس کی دو بڑی وجوہات تھیں، پہلی وجہ زائرین ہیں، پاکستان سے ہر سال چھ سات لاکھ زائرین زیارتوں کے لیے ایران جاتے ہیں، بدقسمتی سے ان کی اکثریت ان پڑھ اور غریب ہوتی ہے اور یہ ان کی زندگی کا پہلا غیر ملکی سفر ہوتا ہے چناں چہ یہ ایران میں جگہ جگہ ایسی حماقتیں کرتے ہیں جس سے ملک کا تاثر خراب ہوتا ہے۔

زائرین کو ایران لے جانے والے پاکستانی بھی اچھے نہیں ہیں، یہ پیسے بچانے کے لیے انہیں گندی اور پرانی بسوں میں لے کر جاتے ہیں، برے ہوٹلوں یا سرائوں میں ٹھہراتے ہیں اور بعض اوقات انہیں امام رضاؒ کے روضے کے سامنے بے آسرا چھوڑ کر غائب ہو جاتے ہیں جس کے بعد زائرین روضے یا سڑکوں پرسوتے ہیں، مانگ کر کھانا کھاتے ہیں اور بھیک مانگتے ہیں چناں چہ پاکستانی مشہد میں مسکین کہلاتے ہیں، ایران میں یہ تاثر عام ہے آپ کو سڑک پر اگر کوئی مفلوک الحال یا گندا شخص نظر آئے تو وہ لازماً پاکستانی ہوگا، دوسرا کوئٹہ سے تفتان بارڈر تک سڑک ویران ہے اور اس کے دائیں بائیں کوئی ریسٹ ایریا نہیں، سرحد پر بھی کوئی ہال، ہوٹل یا ریستوران نہیں ہے، زائرین کھلے آسمان تلے پڑے رہتے ہیں اور یہ اسی بری حالت میں ایران میں داخل ہو جاتے ہیں جب کہ دوسری طرف باقاعدہ امیگریشن ہالز، ریسٹ ایریاز، ہوٹلز اور ریستوران ہیں۔

زاہدان ایک مکمل اور جدید شہر ہے وہاں سے ریل، بسیں اور فلائیٹس چلتی ہیں، یہ فرق بھی پاکستان کا امیج خراب کر رہا ہے اور آخری وجہ امریکی بلاک ہے، امریکا اور ایران میں 50 سال سے دشمنی ہے جب کہ ہم امریکا کے دوست ہیں، اس وجہ سے بھی ایرانی ہمیں پسند نہیں کرتے، ایران میں کیوں کہ ہمارے خوش حال، پڑھے لکھے اور مہذب لوگ نہیں جاتے لہٰذا ایرانی ہمیں غریب، ان پڑھ اور بدتہذیب سمجھتے ہیں لہٰذا ہمیں فوری طور پر زائرین پر توجہ دینی ہوگی، حکومت رضا فائونڈیشن کے ساتھ مل کر کوئٹہ سے زاہدان تک زائرین کی ٹرین چلا سکتی ہے، رضا فائونڈیشن ٹرین بنا اور چلا کر دینے کے لیے تیار بھی ہے، دوسرا ہم ایران کے ساتھ مل کر زائرین کے لیے جدید بس سروس چلا سکتے ہیں اور کوئٹہ تفتان روڈ پر ریسٹ ایریاز بھی بنا سکتے ہیں اور زائرین کی ٹریننگ کا بندوبست بھی کر سکتے ہیں تاہم جون 2025ء میں جب اسرائیل اور امریکا نے ایران پرحملے کیے تو پاکستان نے کھل کر ایران کی حمایت اور مدد کی، اس سے ایران میں پاکستان کا تاثر بدل گیا، ایران کی پارلیمنٹ میں پہلی بار تشکر پاکستان کے نعرے لگے اور ایرانی میڈیا نے بھی پاکستان کی تعریف شروع کر دی، اس وجہ سے اب عوام بھی پاکستانیوں کی قدر کرتے ہیں۔

ہم بھی ایران کے بارے میں مغالطوں کا شکار ہیں، ہم اسے غیر ترقی یافتہ اور غریب ملک سمجھتے ہیں، ایران اس کے بالکل برعکس ماڈرن اور یورپ کا ہم پلہ ملک ہے، پورا ملک روڈ نیٹ ورکس، ریلوے اور فلائیٹس کنکشنز سے جڑا ہوا ہے، ایران میں 13 ائیرلائینز اور ساڑھے تین سو ائیرپورٹس ہیں، سڑکوں کے کنارے تجاوزات اور گند نظر نہیں آتا، بھکاری بھی دکھائی نہیں دیتے، لاء اینڈ آرڈر مثالی ہے، خواتین ساری ساری رات باہر پھرتی رہتی ہیں مگر کسی کو ان کی طرف دیکھنے کی جرات نہیں ہوتی، ٹرینیں بہت اچھی اور صاف ستھری ہیں، ایران پر 40 سال سے اقتصادی پابندیاں ہیں، یہ اسے سوٹ کر گئی ہیں چناں چہ یہ لوگ سوئی سے لے کر ٹرک تک خود بنا رہے ہیں، ہر شہر میں بیسیوں مالز ہیں اور ان میں 90 فیصد........

© Daily Urdu