Balochistan Doob Raha Hai (4)
بلوچستان ڈوب رہا ہے (4)
قیام پاکستان کے بعد بلوچستان میں تین مسائل نے جنم لیا، پہلا مسئلہ بی ایریا اور لیویز تھیں، ملک اس دور میں بے تحاشا مسائل کا شکار تھا لہٰذا گورنمنٹ نے بلوچستان کو جوں کا توں رہنے دیا، بی ایریا کو اے میں تبدیل کیا اور نہ سرداروں کی لیویز ختم کیں، حکومت رابرٹ سنڈیمن کے فارمولے کے تحت ہر سال سرداروں کو رقم دے دیتی تھی اور یہ اپنے لشکروں کے ذریعے علاقے کو چلاتے تھے، بلوچستان میں ڈپٹی کمشنرز اور ایس پی تھے لیکن ان کے اختیارات نہ ہونے کے برابر تھے، یہ سارا سارا دن دفتروں میں بے کار بیٹھے رہتے تھے یا پھر سرداروں کی مہمان نوازی کو انجوائے کرتے تھے، لیویز اور بی ایریا آہستہ آہستہ بلوچستان کی ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، آج بلوچستان کی محرومیوں کی سب سے بڑی وجہ یہ دونوں ہیں۔
دوسرا مسئلہ ون یونٹ تھا، مشرقی پاکستان آبادی کے لحاظ سے بڑا صوبہ تھا جب کہ اس کے مقابلے میں پنجاب، سندھ اور سرحد (کے پی) چھوٹے چھوٹے صوبے تھے، بلوچستان کو اس وقت تک صوبے کا سٹیٹس نہیں ملا تھا، حکومت نے مشرقی اور مغربی پاکستان کو بیلنس کرنے کے لیے 14 اکتوبر 1955ء کو ون یونٹ کا فارمولہ متعارف کرا دیا، ون یونٹ کے آرکی ٹیکٹ وزیراعظم محمد علی بوگرا تھے، وہ خود بنگالی تھے لیکن انہوں نے یہ پلان ڈرافٹ بھی کیا اور پالیسی بھی بنائی تاہم اسے آئینی شکل وزیراعظم چودھری محمد علی نے دی، بہرحال ون یونٹ کے بعد مغربی پاکستان کے تین صوبے اور بلوچستان کے علاقے ایک یونٹ بن گئے اور آج کے پورے پاکستان کا دارالحکومت لاہور ہوگیا جس کے بعد چمن اور تفتان کے بلوچوں کو بھی اپنے معمولی کاموں کے لیے لاہور آنا پڑتا تھا، کراچی اور کے پی کے لوگ بھی روزانہ اس اذیت سے گزرتے تھے، یہ سلسلہ یکم جولائی 1970ء تک چلتا رہا، صدر یحییٰ خان نے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ون یونٹ ختم کر دیا جس کے بعد پاکستان میں پہلی بار بلوچستان کا نام سامنے آیا۔
آپ یہ جان کر حیران ہوں گے اس وقت تک ملک میں بلوچستان کا نام تک موجود نہیں تھا اور بلوچستان کا تیسرا ایشو سوویت یونین تھا، پاکستان کے وجود کو سوویت یونین نے قبول نہیں کیا تھا، روسی ہمیں برطانیہ اور امریکا کی پراکسی سمجھتے تھے چناں چہ انہوں نے اینٹی پاکستان عناصر کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا، اس زمانے میں گریٹر بلوچستان اور پختونستان کے تصور کو ہوا دی جانے لگی، بلوچستان اور صوبہ سرحد میں انگریز کے آنے سے قبل پشتون اور بلوچ قبائل آج کے ایران، افغانستان اور پاکستان میں اکٹھے رہتے تھے، انگریز آیا اور اس نے 1871ء میں ایران اور قلات ریاست کے درمیان سرحدی لائین کھینچ دی، یہ گولڈز مڈ (Golds Mid) لائین کہلاتی ہے، یہ لائین جنرل فیڈرک جان گولڈز مڈ نے کھینچی تھی، اس نے برطانیہ اور ہندوستان کے درمیان ٹیلی گراف کا رابطہ شروع کیا تھا اور دوسرا روس اور ہندوستان کے درمیان بفر سٹیٹس بنائی تھیں تاکہ روس ہندوستان میں داخل نہ ہو سکے، اس کی کھینچی لکیر........
