Angoor Meethay Hain
سوشل میڈیا کی آمد اور عام ہونے کے بعد اس کے صارفین کی توجہ کا دورانیہ چند لمحات تک محدود ہوگیا ہے اور سنجیدہ فکری تحریروں کی طلب میں کمی ہوئی ہے، ایسی تحریریں جو مسلسل ارتکاز اور تفکر کا تقاضا کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا کی عموی پوسٹیں اخبارِ جہاں میں شائع ہونے والے کٹ پیس یا ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والے ہلکے پھلکے اقتباسات اور لطائف کی یاد دلاتی ہیں تو ضیا شاہد کے زیرِ ادارت شائع ہونے والے اخبار"خبریں" اور ادیب جاودانی کے "مون ڈائجسٹ" کی توجہ حاصل کرنے اور چونکا دینے والی چٹ پٹی رپورٹوں کی جانب بھی توجہ منعطف کراتی ہیں۔
پاکستان میں سنجیدہ فکری مواد کی کمی کا احساس اِن دنوں ویسے بھی فزوں تر ہے کہ ہر دو جانب کے مفکرین سبط حسن، علی عباس، جلال پوری، ابنِ حنیف، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد اور متفرق و متضاد خیالات کی حامل اس نوع کی فکری........
