menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hausi, Saudi Arab Aur Makkah Muahida: Khittay Mein Badalti Hui Bisat

27 0
17.09.2026

حوثی، سعودی عرب اور مکہ معاہدہ: خطے میں بدلتی ہوئی بساط

افغانستان سے یمن تک گزشتہ چند برسوں کے واقعات کو اگر ایک دوسرے سے الگ کرکے دیکھا جائے تو شاید یہ محض مختلف ملکوں کے اندرونی تنازعات محسوس ہوں، لیکن خطے کی مجموعی صورتِ حال پر نظر ڈالی جائے تو ایک وسیع تر تزویراتی کشمکش ضرور دکھائی دیتی ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی حالیہ کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں کئی پرانے سوالات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

افغان طالبان کے بارے میں بھی گزشتہ چند برسوں میں مختلف نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ بعض حلقے اسرائیل کی طرف سے طالبان کو ڈرون یا انٹیلی جنس تعاون فراہم کیے جانے کی بات کرتے ہیں اور طالبان کے اسرائیل کے ساتھ ممکنہ سفارتی روابط کی خواہش کو بھی اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ تاہم دستیاب معتبر ذرائع میں اسرائیل کی جانب سے طالبان کو ایسی فوجی یا جاسوسی مدد فراہم کرنے کا قابلِ اعتماد ثبوت سامنے نہیں آتا۔ موجودہ دور میں طالبان نے متعدد ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی اور معاشی روابط بڑھائے ہیں، روس نے جولائی 2025ء میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم بھی کیا تھا، جبکہ چین سمیت کئی ممالک کابل کے ساتھ عملی سفارتی تعلقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ (Council on Foreign Relations، 2026، الجزیرہ، 20 اگست 2026ء)

اس کے باوجود افغانستان کا معاملہ پاکستان کے لیے اپنی جگہ نہایت اہم ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں حالیہ کشیدگی، سرحدی تنازعات اور سلامتی کے مسائل نے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس لیے افغانستان میں ہونے والی ہر بڑی تزویراتی تبدیلی کا براہِ راست اثر پاکستان پر پڑتا ہے۔

یمن کی صورتِ حال اس سے مختلف ضرور ہے، مگر اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ حوثیوں نے گزشتہ ہفتے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے موخا کی بندرگاہ اور باب المندب کے قریب اہم علاقوں پر قبضہ کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق حوثی فورسز نے سعودی حمایت یافتہ قوتوں کو........

© Daily Urdu