menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mere Papa

7 0
previous day

ہمیں گھر کے کام کرنا کبھی پسند نہیں رہا، ان سے بچنے کے لیے کمرے میں کتابوں میں منہ دیے رہتے۔ اس چکر میں سیکنڈ ائر میں پوزیشن آ گئی۔ بچپن سے ہی اعلان کر رکھا تھا کہ وکیل بننا ہے۔ سو پاپا، جنہیں بیٹے اچھے لگتے تھے۔ اب ہمارے اندر انہوں نے ایک مرد مار قسم کی لڑکی دیکھی تو شوق کو بڑھاوا دینے کے لیے سر گرمِ عمل ہو گئے۔ ان کی خصوصی توجہ ملی تو پڑھائی کی طرف شوق مزید بڑھا۔ ادھر باجی کا رشتہ طے پا گیا۔ رخصتی والے دن پاپا رخصتی کے گانوں کی کیسٹ حفظ ماتقدم کے طور پر لے آئے، کہ گانوں کے بول کو دھیان میں رکھ کر آنسوؤں کی جھڑی میں دلہن کو رخصت کر دیا جائے۔ رخصتی کا وقت قریب آیا تو پاپا نے کسی لڑکے سے کہا کہ "بابل کی دعائیں لیتی جا" والا گانا لگا دے۔

پاپا کے ہونٹ کپکپائے، فل جذباتی موڈ میں باجی کے قریب آئے۔ گانا بجا۔ "بریلی کے بازار میں جھمکا گرا رے"۔ پاپا کو جیسے کرنٹ لگا، چہرے کے تاثرات، غصے میں تبدیل ہوئے۔

ببلی، گرتی، پڑتی، "بابل کی دعائیں، بابل کی دعائیں" کہتی، ریکارڈر والے کے پاس پہنچی۔ اس کے پیچھے پیچھے ہم دوڑے، ہم نے جاتے ہی ٹیپ ریکارڈ پر ہاتھ مار کر لتاجی کو خاموش کیا اور انہیں مطلوبہ گانا بجانے کو کہا۔ اداس میوزک فضا میں گونجا، پھر محمد رفیع کی گداز آواز لہرائی "بابل کی دعائیں لیتی جا" پاپا کا ٹیک دوبارہ شروع ہوا۔ مگر اب آنکھ میں ایک آنسو نہیں۔ انہوں نے اپنی آنکھیں بھینچتے ہوئے باجی کو سینے سے لگایا یہ شاید گانے کا ہی اثر تھا، کہ ان کے علاؤہ سب رو رہے تھے۔

اگر ہم گانے کے بول پر دھیان دیتے تو شاید ہمارے بھی چند آنسو ٹپک جاتے۔ لیکن ہماری گود میں ہماری ایک سال کی بہن ندا تھی جو مسلسل رو رہی تھی اور اس سب کے باوجود ہماری کوشش تھی کہ ہم جھک کر دیکھیں کہ باجی کی آنکھوں سے آنسو بھی نکل رہے ہیں یا صرف حلق سے خالی خولی بھوں بھوں نکال رہی........

© Daily Urdu