Portugal Mein Pareshani
ابھی شام کا سُرمائی رنگ اندھیرے سے کچھ فاصلے پر تھا جب میرے فرزندِ اکبر زیشان حمید نے ایک نجی کام کی انجام دہی کے لیے مجھے بیلجیم کے ایک مقامی ائرپورٹ پر الوداع کیا۔ مجھے پُرتگال جانا تھا یہاں افراتفری کے باوجود مجھے اپنی منزل تلاش کرنے میں کوئی خاص دشواری نہ ہوئی۔ میرے رفیقِ سفر مرزا مشاق بیگ تھے جو خاصے ملنسار ہونے کے ساتھ خوش گفتار بھی ہیں۔ اسی وجہ سے انتظار گاہ میں کوئی خاص بوریت نہ ہوئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو گزرے واقعات سناتے اور خود ہی قہقہ لگاکر خوش ہولیتے، اِس دوران منزل پر جانے والی سواری پر بھی نظر تھی۔
جلد ہی گیٹ نمبر وغیرہ لگی سکرین پر تفصیلات ظاہر ہوگئیں تو ہم بھی فضائی سواری کی طرف بڑھنے لگے۔ شینگن ممالک میں سفر اندرونِ ملک جیسا ہے۔ طویل جنگوں سے یورپ نے اتفاق اور بھارئی چاے کا سبق لیا ہے لہذا سرحدیں محض ممالک کی حدبندی ہیں جہاں سے گزرنے کے لیے کسی ویزے یا خاص اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہم جلد ہی منزل پر جانے کے لیے سوار ہوگئے۔ حسبِ روایت جہاز کی روانگی معینہ وقت میں ہوئی اور وہ فضا میں بلند ہونے کے بعد پُرتگال کی طرف بڑھنے لگا نشستیں ساتھ نہ ہونے پر ہم دونوں بوڑھے خوش گپیاں چھوڑ کر اپنی اپنی نشستوں پر جابیٹھے۔
سفری کوفت اِس لیے محسوس نہ ہوئی کہ یورپ میں اندرونِ ملک کی فضائی سواریوں میں پاکستانی ریلوے اور بسوں سے ملتا جُلتا ماحول تو ہوتا ہے لیکن کسی چہرے پر بے زاری یا غصہ نہیں ہوتا۔ نصف شب کے قریب ہماری فضائی سواری نے پُرتگال کی سرزمین کو چھوا۔ جس کا نام لزبن یا لزبوا ہے۔ یہ پُرتگال کا دارالحکومت بھی ہے اور اِس کی ایک اور وجہ واسکوڈے گاما کی سرزمین ہونا بھی ہے۔ یہاں معروف صحافی اور خدائی خدمت گار ضیا سید بھی رہتے ہیں لیکن اُن سے ملاقات نہ سکی کیونکہ وہ پاکستان تھے۔
لزبن ایک مصروف ترین ہوائی اڈا ہے یہاں راستہ بنانا دشوار ہے لیکن ہماری فضائی سواری کیونکہ رائن ائرلائن تھا جس کی ٹکٹیں سستی ہوتی ہیں لیکن ایک ہم جیسے عمر رسیدہ لوگوں کے فائدے کی بات یہ ہے کہ اِس ائر لائن کے جہاز کافی ہٹ کر اُترتے اور فضا میں بلند ہوتے ہیں جہاں لوگوں کا اژدھام نہیں ہوتا۔ جہاز اُترتے ہی ہم نے اپنے اپنے بیگ اُٹھائے اور اگلی منزل کے لیے زمینی سواری تلاش کرنے لگے لیکن مشکل یہ پیش آئی کہ یہاں ادائیگی کا طریقہ کار صرف کارڈ سے قبول........
