Khasare Ka Shikar Sarkari Idare
خسارے کا شکار سرکاری اِدارے
حکومتی معاشی ارسطو کہتے ہیں سفارتی کامیابیوں سے عالمی ساکھ بہتر ہوئی ہے کیونکہ ہر ملک پاکستان سے تعلقات اور سرمایہ کاری کا خواہمشند ہے، بڑے بڑے منصوبوں پر کام جاری اور ترقی کا عمل عروج پر ہے۔ معدنیات سے مزید وسائل اکٹھے کیے جارہے ہیں۔ اب قرضوں سے چھٹکارہ ملے گا اِس عمل کو معاشی کامیابی قرار دیا جاتا ہے لیکن حقائق ایسے دعوؤں کی تائیدنہیں کرتے۔
حالت یہ ہے کہ برآمدات میں مسلسل کمی اور درآمدات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ملک نہ صرف قرضوں کی دلدل میں مزید دھنس رہا ہے بلکہ ملکی اِدارے مسلسل زوال پذیر ہیں یوں خسارے کاشکار ہیں لیکن حکومتی توجہ اِداروں کو خسارے سے نکالنے کی بجائے مزید قرض لیکر لینے پر ہے۔ یہ ایسا پہلو ہے جس سے حکمرانوں کی نیک نامی میں اضافہ ہونے کی بجائے کارکردگی سوالیہ نشان ہوئی ہے اور شہری یہ سوچنے پر حق بجانب ہیں کہ شاید حکمرانوں کو کسی محاسبے کا خوف نہیں اسی لیے فرائض سے غفلت کے مرتکب ہیں۔
اگر اپوزیشن کہتی تو شاید لوگ یہ کہہ کر رَد کر دیتے کہ وہ سچ بول ہی نہیں سکتی اور اُس کا تو کام ہی تنقید کرنا ہے مگر جب حکومتی خود خسارے کی نشاندہی کرنے لگے تو اِس کا ایک ہی مطلب ہے کہ صورتحال اتنی دگرگوں ہے کہ اب چھپانا ممکن ہی نہیں رہا۔ یا تو حکمران فرائض کی اِدائیگی میں غفلت کا شکار ہیں اور صرف اقتدار تک محدود ہوچکے ہیں یا اُن میں ایسی کوئی صلاحیت واہلیت ہی نہیں کہ امورِ مملکت میں کچھ بہتری لا سکیں۔ وزارتِ خزانہ کی........
