menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jharpein Aur Arab Maeeshat

23 0
15.07.2026

امریکہ و ایران لڑائی کو حقیقت سمجھنا مشکل ہوگیا ہے آثار و قرائن سے نوراکُشتی لگتی ہے۔ دلیل یہ کہ دونوں ہی حملے سے قبل ایک دوسرے کو آگاہ کرتے ہیں تاکہ زیادہ نقصان نہ ہو۔ اِس میں کوئی ابہام نہیں کہ امریکہ اور ایران دونوں ہی عربوں کو معاشی طور پر تباہ کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ مت بھولا جائے کہ آبنائے ہُرمز کی بار بار بندش سے ایران کو حاصل عالمی حمایت میں بتدریج کمی آئی ہے جس کی وجہ پاسدارانِ انقلاب ہیں۔ لہذا جائزہ لیں کہ ضد و ہٹ دھرمی سے وہ کہیں اپنا ہی نقصان تو نہیں کررہے۔ موجودہ حالات میں اقوامِ عالم کی غالب اکثریت کا خیال ہے کہ خلیج کی تازہ جھڑپوں کا ذمہ دار ایران ہے اور وہ تیل کی فراہمی میں خلل ڈال کردنیا اور عربوں کو بلیک میل کر رہا ہے اسی بنا پر امریکی نکتہ نظرکے ہم خیالوں میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ و ایران دونوں عربوں کے دوست نہیں دونوں ہی اُنھیں دباؤ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ تیل کی تجارت ڈالر میں ہونے کی وجہ سے امریکہ بظاہر عرب ممالک کا دوست ہے لیکن عرب ممالک نے امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملوں میں فریق بننے کی بجائے الگ رہنا بہتر سمجھا حالانکہ ایران نے لڑائی کو فروغ دینے اور عرب ممالک کو شامل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ امریکہ کی بھی یہی دیرینہ آرزو تھی کہ عرب و ایران جنگ ہو لیکن پاکستان، ترکیہ، سعودیہ اور مصر کے مصالحانہ کردار سے جنگ محدود رہی۔ جنگ بندی کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کے باوجود قطر اور سعودی عرب کے تیل بردار جہازوں پر میزائل برسانا ایک سنگین ایرانی غلطی ہے۔ مزید یہ کہ جب قطر کے لوگ سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی........

© Daily Urdu