menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aabi Jarhiyat Aur Kasheedgi

26 0
30.06.2026

آبی جارحیت اور کشیدگی

پاک بھارت آبی تنازع ایک بار پھر دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھانے کا باعث ہے۔ موجودہ کشیدگی سے خدشہ ہے کہ دونوں جوہری ہمسایہ ممالک پھر ٹکراؤ کی طرف جاسکتے ہیں۔ اگر بڑی جنگ نہ بھی ہوئی تو بھی محدود سرحدی جھڑپوں کا اِمکان موجود ہے۔ اِن حالات میں عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ آگے آئے اور دونوں جوہری ہمسایہ ممالک کو امن کی طرف لائے۔

بدقسمتی سے پاک بھارت روابط معطل ہیں حکومتی یا عوامی سطح پر بھی بات چیت یا ملاقاتوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ جنگوں کے ایام میں بھی سفارتی زرائع پر اتنی قدغنیں نہیں لگائی جاتیں جتنی بھارت نے گزشتہ برس مئی کی زمینی اور فضائی جھڑپ میں ہزیمت کے بعد لگا رکھی ہیں جسے سراہا نہیں جاسکتا۔ دراصل تحقیقات سے قبل ہی دہشت گردی کو جواز بنا کر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا بھارت کی فاش غلطی تھی جو طاقت کے زعم میں کردی گئی جس سے واضح ہوگیا کہ وہ ذمہ داران کی گرفتاری اور اُنھیں سزا دینے کی بجائے صرف پاکستان سے کشیدگی بڑھانے میں سنجیدہ ہے۔ اب تو غیر جانبدار تجزیہ کار بھی کہنے لگے ہیں کہ پہلگام واقعہ بھارتی اِداروں نے خود کرایا اگر ایسا نہ ہوتا تو ذمہ داران کے خلاف کچھ تو کاروائی ہوتی لیکن ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہوا جس سے بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔

بھارت کے غلط فیصلوں کے نتائج گزشتہ برس پاک بھارت جھڑپوں کی صورت میں ظاہر ہوئے جن میں بھارت نے منہ کی کھائی اور خطے میں اُس کی بالادستی کا دعویٰ بے بنیاد اور غیر حقیقی ثابت ہوا۔ یہ صورتحال بھارتی قیادت کے لیے قطعی طور........

© Daily Urdu