Mehangai, Berozgari Aur Ghurbat Ki Sharah Mein Khatarnak Izafe
مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کی شرح میں خطرناک اضافے
سُنا ہے "ہمارے" وزیر اعظم (میاں محمد شہباز شریف) بہت "سادہ و کفایت شعار" ہیں تنخواہ بھی نہیں لیتے (یاد رہے تنخواہ بھی نہیں لیتے والی بات سنی سنائی ہے) کفایت شعاری مستحکم حاکمیت اور مساوات پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ ملکی خزانے کے بے مصرف استعمال کو "پسند" نہیں کرتے مگر اس کا کیا کیجے کہ آپ کی کابینہ میں 31 وزرا 11 وزرائے مملکت 5 مشیر 8 معاونین خصوصی اور 18 کوارڈی نیٹر شامل ہیں (تعداد میں اونچ نیچ کی ذمہ داری راوی پر ہے ادارہ راوی کی روایت کا ہرگز ہرگز "ذمہ وار" نہیں۔
البتہ یہ سوال درست ہے کہ وزیروں، وزرائے مملک، مشیروں، معاونین خصوصی و کوارڈی نیٹرز کے اس لشکر کی کارکردگی کیا ہے؟ ہاں ان میں سے چند آستینیں اُلٹائے نجی چینلوں کے سیاپہ فروشی والے پروگراموں میں فریقِ مخالف کو"آڑے ہاتھوں" لیتے دیکھائی ضرور دیتے ہیں۔ یہ 73 رکنی لشکر رعایا المعروف عوام کے ٹیکسوں پر پل رہا ہے اس پالنے پوسنے کا "عوام" کو اب تک کیا فائدہ ہوا؟ فقیر راحموں تو کہہ رہا ہے کہ شاہ تم بس صاحبوں کی آنیاں جانیاں، گلاں باتاں اور ٹشن سے جی بہلاو، مہنگائی و بدحالی کے اس موسم میں جو ختم ہونے میں ہی نہیں آرہا ہم جی کیسے بہلائیں یہ بذات خود سوا سات روپے سکہ رائج الوقت کا سوال ہے۔
اچھا ایک ضمنی سوال بھی ہے وہ یہ کہ جس کفایت شعاری مستحکم حاکمیت (وہی گڈ گورننس کہتے ہیں جسے) اور مساوات پر وزیراعظم پختہ یقین رکھتے ہیں وہ اپریل 2022 سے اب اکتوبر 2026 تک عملی شکلیں لے پائی یا نہیں؟ لے پائی تو کہاں، نہیں لے پائی تو کیوں؟
ہمیں یاد ہے کہ جو لوگ آج اقتدار میں ہیں یہ اپریل 2022 سے قبل بڑے........
