Kya Bigarta Akbar Jo Tum Na Marte Kuch Din Aur
جوانِ رعنا محمد اکبر خان کورائی چل بسے سرائیکی وسیب اپنے ایک اُجلے فرزند سے محروم ہوگیا آپ (پڑھنے والے) اکبر خان کو نہیں جانتے ہوں گے اکبر خان ایک معروف ماہر تعلیم اور بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طلبا و طالبات کے شفیق رہنما تھا۔ سرائیکی اردو انگریزی اور چینی زبان پر مسلمہ قدرت رکھنے والے اس نوجوان ماہر تعلیم کے سانحہ ارتحال نے مجھ پر تو جیسے قیامت توڑدی ہے۔
مرزا اسداللہ خان غالب یاد آرہے ہیں اپنے بھتیجے عارف کے سانحہ ارتحال پر کہہ رہے تھے "کیا بگڑتا جو نہ مرتے کچھ دن اور" ہمارا حال بھی ویسا اور دل و دماغ کی بات یہی ہے کہ "اکبر کیا بگڑتا جو نہ مرتے کچھ دن اور" اکبر خان ہمارے محبوب دوست اور منہ بولے بھائی ریاض احمد خان کورائی کے صاحبزادے تھے ریاض احمد خان 1970 کی دہائی کے سرائیکی وسیب کے ان طلبا میں شامل تھے جنہوں نے عمر علی خان بلوچ مرحوم کے ساتھ ملکر سرائیکی اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی۔
صوبہ پنجاب کے جنوبی حصے کی سرائیکی بولنے والی آبادی کی یہ پہلی قوم پرست طلبا تنظیم تھی سرائیکی قوم پرستوں کے اس پہلے قافلے میں نذیر لغاری سعید اختر یحییٰ خان کلاچی ظفر اقبال جتوئی یہ تحریر نویس اور دیگر بہت سارے دوست شامل تھے ایک طلبا تنظیم میں شامل نوجوانوں میں سے بہت سارے اگلے مرحلوں میں ذاتی تعلقوں میں بندھ گئے دوستیاں بنیں اور خوب نبھیں۔
ریاض احمد خان کورائی کا آبائی شہر خانپور ضلع........
