Hum Ne Aurat Ke Jhukne Ko Muhabbat Samjha
ہم نے عورت کے جھکنے کو محبت سمجھا
میں محبت کی شاعری سے لطف بھی لوں گی اور ہراسانی کے خلاف بھی کھڑی رہوں گی۔ مجھے وہ جملہ آج بھی یاد ہے۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے جب پاکستان میں ورک پلیس ہراسانی پر بحث شروع ہو چکی تھی۔ میں ایمسٹرڈیم سے پوسٹ گریجویٹ ڈگری مکمل کرکے پاکستان واپس آئی تھی۔ انہی دنوں ایک ساتھی ڈاکٹر نے مجھ سے کہا: ڈاکٹر صاحبہ، اب تو ہم آپ کی تعریف بھی نہیں کر سکتے۔ آج آپ کتنی پیاری لگ رہی ہیں، کہیں ہراسانی کا کیس "نہ بنوا دیں"۔ وہ ہنسا۔ میں نے بھی ہنس کر جواب دیا۔
اُس وقت شاید مجھے اُس جملے میں اتنی ہراسانی تہیں نظر نہیں آئی تھیں جتنی آج آتی ہیں۔ اب برسوں بعد سوچتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اُس ہنسی کے پیچھے ایک پورا ثقافتی مسئلہ چھپا ہوا تھا۔ عورت کو دیکھنا، عورت کی تعریف کرنا، عورت کے حسن پر تبصرہ کرنا۔ ہم ان سب کو محبت، شائستگی یا رومانس کی زبان میں اتنی آسانی سے قبول کرتے آئے ہیں کہ یہ سوال پوچھنا ہی مشکل ہو جاتا ہے کہ عورت کی رضامندی کہاں ہے، اُس کی سبجیکٹیوٹی کہاں ہے اور نظر کب محض نظر نہیں رہتی۔
پاکستان میں ورک پلیس ہراسانی کے خلاف قانون 2010 میں آیا، مگر قانون بن جانے سے وہ ثقافتی زبان ختم نہیں ہوتی جس میں کونسنٹ تعریف اور حقِ تصرف، محبت اور ملکیت، کشش اور اختیار ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔
شاید اسی لیے یہ سوال میرے لیے صرف ورک پلیس ہراسانی کا سوال نہیں رہا۔
یہ ہمارے گانوں میں بھی ہے۔ ہندوستانی سنیما کا ایک پرانا، بے حد مقبول گیت یاد آتا ہے:
کالا پانی کا یہ گیت ہندوستانی فلمی رومانس کی اُس دنیا کا حصہ ہے جس میں عورت کا مان جانا، ہار جانا، شرمانا اور محبوب کے سامنے جھک جانا محبت کی میٹھی علامت بن جاتا ہے۔
ہم نے ایسے گیت صرف سنے نہیں، ہم نے ان کے ساتھ محبت کا تصور بھی سیکھا ہے۔
عورت کا ہار جانا رومانوی ہے۔ عورت کا کسی کی نظر میں ٹھہر جانا محبت ہے۔
اور پھر پروین شاکر آتی ہیں۔
عورت کا جھکنا خوبصورت ہے۔ عورت کی نا ہاں ہے کونسنٹ کا تصور نہیں ہے دٹراس میں ہوتے ہوئے کون سا مرد رضا طلب کرتا ہے؟ شاید پروین شاکر کی شاعری والا محبوب اور بس؟
پروین شاکر کی شاعری میں وہ لمحہ جب کسی کی نظر عورت پر ٹھہر جائے اور وقت گویا رک جائے، ہم اسے حسن کہتے ہیں، محبت کہتے ہیں، ادب کہتے ہیں:
سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا ایک دفعہ تو رک گئی گردشِ ماہ و سال بھی
اور پھر وہ غزل جسے وائٹل سائنز نے گا کر مقبول کر دیا۔ عورت کے چہرے پر لکھی جاتی ہوئی غزل، خاموشی میں بولتی ہوئی آنکھیں، کسی اور کی صبحیں اور شامیں، کسی اور کی یادوں میں گزرنے والا وقت۔ یہ سب ہمارے لیے محبت کی انتہائی خوبصورت زبان بن جاتا ہے۔
چہرہ میرا تھا، نگاہیں اس کی خاموشی میں بھی وہ باتیں اس کی میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں شعر کہتی ہوئی آنکھیں اس کی
شوکۂ لمحوں کا پتہ دینے لگیں تیز ہوتی ہوئی سانسیں اس کی ایسے موسم بھی گزارے ہم نے صبحیں جب اپنی تھیں، شامیں اس کی
دھیان میں اس کے یہ عالم تھا کبھی آنکھ مہتاب کی، یادیں اس کی رنگ جویا وہ۔ آئے تو پھول پھول تو پھول ہیں، شاخیں اس کی فیصلہ موجِ ہوا نے لکھا
آندھیاں میری، بہاریں اس کی خود پہ بھی کھلتی نہ ہو جس کی نظر جانتا کون
زبانیں اس کی نیند اس سوچ سے ٹوٹی اکثر کس طرح کٹتی ہیں راتیں اس کی
دور رہ کر بھی صدا رہتی ہے مجھ کو تھامے ہوئے بانہیں اس کی
کسی اور کے بازوؤں میں سمٹ کر تجھے سوچنا کس قدر منفرد تجربہ تھا
یہ احساس ہی کس قدر جان لیوا ہے جاناں! کہ ایسی جگہ، ایسی خُنک زار میں میرے تن پر پھسلتی ہوئی شبنمی........
