Siasat e Nabvi Se Asr e Hazir Ke Liye Pegham
سیاستِ نبوی ﷺ سے عصرِ حاضر کے لیے پیغام
تاریخ کے ایوانوں میں کتنے ہی تخت آئے، کتنے ہی تاج چمکے اور کتنی ہی سلطنتیں اپنی قوت و شوکت کے نشے میں زمانے پر سایہ فگن ہوئیں، مگر وقت کی گرد نے سب کے نقوش مٹا دیے۔ اس کے برخلاف ایک ایسی ریاست بھی گزری جس کا اقتدار تلوار کی دھار سے زیادہ کردار کی قوت پر قائم تھا، جس کی سیاست مصلحت سے خالی نہ تھی مگر اصول سے بے وفا بھی نہ تھی اور جس کی حکومت میں حاکم کو اقتدار کا مالک نہیں بلکہ امانت کا حامل سمجھا گیا۔ یہی وہ مدنی سیاست تھی جس نے انسانی تاریخ کو یہ سبق دیا کہ ریاست کا اصل جوہر عمارتیں، لشکر اور خزانے نہیں، بلکہ عدل، امانت، شوریٰ، عہد اور انسان کی حرمت ہے۔
سیاستِ نبوی ﷺ کا پہلا پیغام یہ ہے کہ اقتدار مقصد نہیں، ذریعۂ خدمت اور امانتِ الٰہی ہے۔ قرآن کہتا ہے: إِنَّ اللہَ يَأُمُرُكُمُ أَنُ تُؤَدُّوا الُأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهُلِهَا۔ حکمرانی اسی وقت عبادت بنتی ہے........
