menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Makkah Se Badar Tak: Muslim Dunya Ke Difai Taawun Ka Naya Baab

32 0
29.10.2026

مکہ سے بدر تک: مسلم دنیا کے دفاعی تعاون کا نیا باب

عصرِ حاضر کی عالمی سیاست میں دفاعی تعاون کا مفہوم محض مشترکہ فوجی مشقوں، اسلحے کی خرید و فروخت یا دفاعی معاہدوں پر دستخط کرنے تک محدود نہیں رہا۔ اب ریاستوں کی حقیقی قوت کا تعین اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ وہ دفاعی ٹیکنالوجی میں کس حد تک خودکفیل ہیں، تحقیق و ترقی کے لیے کتنے وسائل مختص کرتی ہیں اور اپنی صنعتی صلاحیت کو دوسرے ممالک کے ساتھ اشتراک کے ذریعے کس انداز میں وسعت دیتی ہیں۔ اسی بدلتے ہوئے تناظر میں پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان بدر، کے نام سے دفاعی تعاون کی مفاہمتی یادداشت کی خبر اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ یہ پیش رفت مسلم دنیا کے اندر دفاعی صنعت، تکنیکی مہارت اور باہمی اشتراک کے نئے امکانات کی طرف اشارہ کرتی ہے، تاہم اس کی اصل اہمیت کا تعین محض اعلان سے نہیں، بلکہ اس کے عملی نتائج سے ہوگا۔

فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق، چاروں ممالک نے دوحہ میں بدھ کے روز بدر، کے عنوان سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس کا بنیادی مقصد دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تحقیق و ترقی اور تکنیکی تربیت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ان ترجیحات سے واضح ہوتا ہے کہ مجوزہ شراکت داری کا دائرہ صرف دفاعی سازوسامان کی تجارت تک محدود نہیں، بلکہ اس میں صنعتی استعداد کی تعمیر اور علم و مہارت کے تبادلے کا پہلو بھی شامل ہے۔ اگر اس مفاہمت کو مؤثر ادارہ جاتی ڈھانچے، مشترکہ منصوبوں اور قابلِ پیمائش اہداف سے منسلک کیا گیا تو یہ شریک ممالک کے لیے دفاعی خودکفالت کی سمت ایک مفید پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔

اس مرحلے پر بنیادی سوال یہ ہے کہ پاکستان........

© Daily Urdu