menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khamosh Mualij (2)

37 0
24.10.2026

عصرِ حاضر کی طبّی دانش نے امراضِ انسانی کے انسداد و معالجہ کے لیے ادویۂ مرکبہ، جراحیِ دقیقہ اور تحقیقاتِ سائنسیہ کے ایسے حیرت انگیز امکانات پیدا کر دیے ہیں جن کا تصور گزشتہ ادوار میں محال تھا، تاہم حیاتِ انسانی کے بعض مشاہدات و واردات ایسے بھی ہیں جو اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ صحت و اعتلال کا تعلق صرف عقاقیر، آلاتِ طب اور تدابیرِ علاج تک محدود نہیں بلکہ ذہنِ انسانی، کیفیاتِ قلبی اور احوالِ نفسی بھی اس باب میں غیرمعمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ گزشتہ چند عشروں میں علمِ نفسیات، علمِ اعصاب اور طبِ جدید کے باہمی امتزاج سے وجود میں آنے والی تحقیقات نے یہ امر روزِ روشن کی طرح واضح کر دیا ہے کہ جذباتِ انسانی جسمانی صحت و مرض پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ انہی حقائق میں ایک حقیقت مسرت، تبسم اور قہقہے کی وہ شفابخش تاثیر ہے جسے عصرِ حاضر میں "لافٹر تھراپی" کے عنوان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

تاریخِ انسانی ایسے نفوسِ قدسیہ اور اصحابِ تجربہ سے خالی نہیں جنہوں نے اپنے ذاتی مشاہدات کو اجتماعی منفعت کا وسیلہ بنایا ہو، تاہم نارمن کزنز کا نام اس ضمن میں ایک منفرد حوالہ رکھتا ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے طبیب نہ تھے بلکہ صحافی، مصنف اور سماجی مفکر تھے، لیکن بیماری کے خلاف ان کی طویل اور صبرآزما جدوجہد نے انہیں انسانی رویّوں اور نفسیاتی اثرات کے مطالعے میں ایک نمایاں مقام عطا کیا۔ ان کی حیات کا سب سے اہم پیغام یہی تھا کہ انسان کی داخلی کیفیت اور........

© Daily Urdu