menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Karakas Operation Ke Baad Aalmi Satah Par Shadeed Rad e Amal

24 0
08.01.2026

یونہی تاریخ کے صفحات پر کچھ واقعات یلغار کی مانند اترتے ہیں وہ صرف عسکری کارروائیاں نہیں ہوتے بلکہ طاقت، عالمی سیاست، سفارتی جارحیت اور اخلاقی سوالات کا وہ گہرا مرقع ہوتے ہیں جسے آنے والی نسلیں عبرت یا انتباہ کے طور پر پڑھتی ہیں۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی اسپیشل یونٹ کی تحویل میں لیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال بھی محض ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی تجربے، طاقت کے بے خوف استعمال اور عالمی توازنِ قوت کے متزلزل ہونے کی ایسی کہانی ہے جس کے اثرات خطوں اور براعظموں سے آگے ذہنوں اور ضمیروں تک جا پہنچتے ہیں۔ یہ کارروائی نہ صرف وینزویلا کی خودمختاری پر کاری ضرب کے مترادف قرار دی جا رہی ہے بلکہ اس نے دنیا بھر میں اس سوال کو بھی ازسرِ نو زندہ کر دیا ہے کہ کیا طاقتور ریاستیں اب بھی کمزور ملکوں کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ طے شدہ میزوں پر کرنے کو اپنا حق سمجھتی ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کارروائی کو فخر اور کامیابی کے لہجے میں بیان کرنا دراصل اس ذہنیت کی نشاندہی کرتا ہے جس میں فوجی برتری کو اخلاقی جواز پر فوقیت حاصل ہے۔ رات کی تاریکی میں بجلی کی بندش، فضائی محاصرے، خصوصی یونٹوں کی پیش قدمی اور صدر کو "قلعے" سے نکالنے کی داستان کو ایک تکنیکی کرشمہ قرار دینا یہ بتاتا ہے کہ طاقت کے اس مظاہرے کو محض ایک مہم نہیں بلکہ ایک تماشا سمجھا گیا ایسا تماشا جسے بقول خود ٹرمپ "ٹیلی ویژن شو" کی طرح دیکھا اور دکھایا گیا۔ مگر جہاں ایک طرف اس منظر کو شاندار عسکری صلاحیت کا استعارہ بنایا گیا، وہیں دوسری جانب یہ واقعہ عالمی قانون، ریاستی وقار اور خودمختاری کے اصول پر ایک بڑا سوالیہ........

© Daily Urdu