menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kainati Muamma

13 0
19.05.2026

کائنات کی وسعت اور اس کی مسلسل پھیلتی ہوئی ساخت صدیوں سے انسانی تجسس کا مرکز رہی ہے، مگر جدید فلکیات نے اس راز کو سمجھنے کے لیے جس پیمانے پر تحقیق کی ہے وہ انسانی تاریخ میں بے مثال ہے۔ حال ہی میں عالمی ماہرینِ کونیات کے ایک مشترکہ تحقیقی تعاون نے ہبل مستقل (Hubble Constant) کی پیمائش کو پہلے سے کہیں زیادہ درست بنانے کی جانب اہم پیش رفت کی ہے۔ اس نئی تحقیق کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ کائنات دراصل کس رفتار سے پھیل رہی ہے اور کیوں موجودہ نظریاتی ماڈلز اور عملی مشاہدات کے نتائج ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔

فلکیات دان جب دور دراز کہکشاؤں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ایک واضح رجحان سامنے آتا ہے کہ جتنی دور کوئی کہکشاں زمین سے واقع ہوتی ہے، وہ اتنی ہی زیادہ رفتار سے ہم سے دور جا رہی ہوتی ہے۔ اسی تعلق کو ایک عددی قدر کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے جسے ہبل مستقل کہا جاتا ہے۔ یہ قدر نہ صرف کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار ظاہر کرتی ہے بلکہ اسی کی بنیاد پر سائنس دان کائنات کی عمر کا اندازہ بھی لگاتے ہیں، جو موجودہ تحقیق کے مطابق تقریباً 13.8 ارب سال سمجھی جاتی ہے۔

یہ تصور پہلی مرتبہ اس وقت واضح ہوا جب ماہر فلکیات ایڈون ہبل نے دریافت کیا کہ کہکشائیں جامد نہیں بلکہ ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں۔ اس مشاہدے نے جدید کونیات کی بنیاد رکھ دی اور اس نظریے کو تقویت ملی کہ کائنات ایک عظیم........

© Daily Urdu