menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jawab Ka Badshah

22 0
15.10.2026

شہرِ آئینہ میں ایک ایسی سلطنت آباد تھی جہاں تلواروں سے زیادہ سوالات کی حکمرانی تھی۔ ہر شخص کے ہاتھ میں ایک روشن شیشہ تھا وہ اس سے دنیا کے کسی بھی گوشے، کسی بھی واقعے اور کسی بھی راز کے بارے میں پوچھتا اور چند لمحوں بعد ایک باوقار، مربوط اور بظاہر قطعی جواب اس کے سامنے آجاتا۔ اس سلطنت کا فرمانروا کوئی انسان نہ تھا، اسے لوگ "جواب" کہتے تھے۔ ایک دن شہر کے ایک کہنہ مشق صحافی نے اس سے پوچھا، "کل جو واقعہ پیش آیا، اس کی حقیقت کیا ہے؟" جواب آیا تو عبارت ایسی مربوط تھی کہ دربار میں بیٹھے اہلِ دانش بھی متاثر ہوئے۔ مگر صحافی نے اپنی دستاویزات کھولیں تو معلوم ہوا کہ جواب میں ایک ایسا واقعہ بھی شامل تھا جو کبھی پیش ہی نہیں آیا تھا۔

اس نے پوچھا، "یہ کہاں سے آیا؟" جواب نے کہا، "میں نے مختلف اطلاعات کو جمع کیا، ان کا خلاصہ بنایا اور ایک مکمل تصویر تمہارے سامنے رکھ دی"۔ صحافی نے کہا، "مگر تصویر مکمل نہیں، مصنّع ہے اور جو چیز درست معلوم ہو، ضروری نہیں کہ درست بھی ہو"۔ جواب خاموش رہا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں شہر کے اہلِ فکر پر پہلی بار یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ عہدِ جدید کا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہ نہیں کہ معلومات کون پیدا کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ معلومات کا مفہوم کون متعین کرتا........

© Daily Urdu