menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aman e Watan

33 0
10.10.2026

عصرِ رواں کے دگرگوں اور متحرک عالمی منظرنامے میں ریاستوں کا بقا و ارتقاء اب محض عسکری برتری، جغرافیائی حدود کی پاسبانی یا سرحدی مورچہ بندیوں کا محتاج نہیں رہا، بلکہ یہ داخلی و خارجی متغیرات کے اس گنجلک اور پیچیدہ جال میں پیوست ہو چکا ہے جہاں عسکری قوت، سیاسی بصیرت، معاشی لچک اور سماجی آہنگ کی لکیریں باہم مدغم ہو جاتی ہیں۔ اس تناظر میں غیر روایتی جنگی حربوں اور دہشت گردی کے مہیب محرکات نے ریاستی نظمِ انصرام کو بنیادوں تک ہلا ڈالا ہے۔ اب بارود کی بو اور تخریب کاری کے نیٹ ورکس صرف دفاعی تنصیبات تک محدود نہیں رہے، بلکہ ان کا موذی دائرہِ کار معاشی شریانوں، شہری زندگی اور اجتماعی نفسیات کو مفلوج کرنے تک پھیل چکا ہے۔

کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان اور بلوچستان کے سنگلاخ خطوں میں رونما ہونے والے روح فرسا سانحات اس تلخ زمینی حقیقت کے غماز ہیں کہ ہم ایک ایسے کثیرالجہتی ہائبرڈ جنگی ماحول کی زد میں ہیں جہاں ہر شہری، ہر سماجی کارکن اور ہر معاشی سرگرمی کو براہِ راست ہدف بنایا جا رہا ہے۔ یہ حوادث نہ صرف قیمتی جانوں کا زیاں ہیں بلکہ ریاستی رٹ اور عوامی اعتماد پر ایسے کاری زخم لگاتے ہیں جو انسدادِ دہشت گردی کے روایتی فریم ورک سے ماورا ہو کر ایک جامع، مربوط اور جدید قومی سلامتی کی........

© Daily Urdu