menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aabna e Hormuz Ki Tapish, Pakistan Ki Maeeshat Par Asraat

21 0
previous day

آبنائے ہرمز کی تپش، پاکستان کی معیشت پر اثرات

دنیا کی جغرافیائی سیاست میں بعض مقامات اپنی جغرافیائی حدود سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آبنائے ہرمز بھی ایسا ہی ایک آبی گزرگاہ ہے، جس کی تنگ سمندری پٹی میں پیدا ہونے والا اضطراب ہزاروں میل دور واقع معیشتوں کے ایوانوں تک لرزش پہنچا دیتا ہے۔ خلیج فارس کو بحیرۂ عمان سے ملانے والی یہ گزرگاہ محض بحری جہازوں کی آمدورفت کا راستہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگ ہے۔ اس کے ذریعے تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل میں تعطل پیدا ہو تو اس کے اثرات عالمی منڈیوں، صنعتی پیداوار، تجارتی توازن اور بالآخر عام صارف کی قوتِ خرید تک منتقل ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی اس جغرافیائی حقیقت سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا، کیونکہ ہماری توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ بیرونی ذرائع اور خلیجی خطے سے وابستہ ہے۔

30 اکتوبر 2026ء کو سامنے آنے والی اطلاعات نے اس حساس آبی گزرگاہ کی صورتِ حال کو ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک چھوٹی کشتی کے ذریعے ایک آئل ٹینکرکے بیرونی حصے پر دو دھماکا خیز آلات نصب کیے گئے، جس کے نتیجے میں اس کے انجن روم میں آگ بھڑک اٹھی اور جہاز عارضی طور پر غیر فعال ہوگیا۔ برطانوی بحری نگرانی کے ادارے یو کے ایم ٹی او نے عملے کے محفوظ رہنے اور ماحولیاتی نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے تین آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے متاثر ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم رائٹرز نے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے کی وضاحت بھی کی ہے۔ ان واقعات کی اہمیت محض جہازوں کو پہنچنے والے نقصان تک محدود نہیں اصل مسئلہ سمندری راستوں کے تحفظ، تجارتی جہاز رانی کے اعتماد اور عالمی توانائی کی مسلسل ترسیل کا........

© Daily Urdu