10 October Zehni Sehat Ka Aalmi Din
10 اکتوبر ذہنی صحت کا عالمی دن
ہم اکثر صحت کا ذکر کرتے ہوئے صرف جسمانی اعضا کی کارکردگی اور بیماریوں پر بات کرتے ہیں، حالانکہ ذہنی صحت یعنی مینٹل ہیلتھ انسان کی کلی وجودی صلاحیتوں کا وہ بنیادی محور ہے جو اس کی پوری زندگی کا رخ طے کرتا ہے۔ ذہنی صحت سے مراد صرف کسی نفسیاتی بیماری کی عدم موجودگی نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری سوچ، جذبات، رویوں اور زندگی کے روزمرہ کے مسائل سے نپٹنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ جب انسان ذہنی طور پر متوازن اور پرسکون ہوتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے خیالات اور جذبات کو مثبت انداز میں منظم کرتا ہے بلکہ معاشرے میں ایک فعال اور کارآمد فرد کی حیثیت سے کردار بھی ادا کرتا ہے۔ اس کے برعکس جب ذہنی توازن بگڑتا ہے تو انسان اضطراب، افسردگی، یاسیت اور بے چینی کا شکار ہو کر خود اپنے وجود کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔
عالمی سطح پر اگر جائزہ لیا جائے تو ذہنی صحت کو اب صرف فرد کا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا سماجی چیلنج تسلیم کیا جا رہا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ذہنی معالجے کو جسمانی علاج کی طرح ہی اہمیت دی جاتی ہے اور اس کے لیے باقاعدہ منظم بنیادی ڈھانچا موجود ہے۔ مغربی اور یورپی ممالک میں نفسیاتی معالجے کو عام صحت عامہ کے پروگراموں میں شامل کیا گیا ہے جہاں ماہرین نفسیات، نفسیاتی طبیب اور سماجی ورکرز مل کر مریض کی بحالی کے لیے کام کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر فن لینڈ، سوئٹزرلینڈ اور بالخصوص سکینڈینیوین ممالک ذہنی صحت کو اپنی قومی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھتے ہیں۔
فن لینڈ ایک ایسا ملک ہے جس نے سالہا سال سے عالمی خوشحالی کی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کر رکھی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ان کا اپنی عوام کی ذہنی صحت پر بے پناہ فوکس ہے۔ فن لینڈ میں بچوں کے اسکول کے دور سے ہی جذباتی توازن اور ذہنی صحت سے متعلق تعلیم دی جاتی ہے، کام کی جگہوں پر اوقات کار کو انسانی صلاحیت کے مطابق رکھا جاتا ہے اور کسی بھی قسم کے ذہنی تناؤ کی صورت میں مفت اور معیاری نفسیاتی مدد فوری فراہم کی جاتی ہے۔ اسی طرح سویڈن اور ناروے میں بھی عوام کے ذہنی سکون کے لیے کام اور ذاتی زندگی کے درمیان بہترین توازن........
