Berozgar Beta
وہ ہر صبح وقت پر جاگتا تھا، حالانکہ جانے کے لیے کوئی دفتر نہیں تھا۔ اماں چولہے پر روٹیاں لگا دیتیں، ابا اخبار کھول کر نوکریوں کے اشتہار دیکھتے اور وہ خاموشی سے چائے کا کپ تھامے بیٹھا رہتا۔ گھر میں سب کچھ معمول کے مطابق ہوتا، بس ایک چیز غیر معمولی تھی، اس کی بےروزگاری۔ یہ ایسی خاموش بیماری تھی جو بولتی نہیں تھی، مگر گھر کے ہر کمرے میں اس کی موجودگی محسوس ہوتی تھی۔
وہ پڑھا لکھا تھا، خواب دیکھنے والا بھی۔ یونیورسٹی میں اساتذہ اس کی مثال دیا کرتے تھے۔ کہا جاتا تھا کہ یہ لڑکا کچھ بنے گا۔ مگر وقت نے اس کے لیے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔ ڈگری فائل میں بند ہوگئی اور خواب آنکھوں سے نکل کر دیواروں پر لٹک گئے۔ روز وہ سی وی فولڈر میں رکھتا، شہر کے مختلف دفاتر کے چکر لگاتا اور شام کو خالی ہاتھ لوٹ آتا۔ دروازہ کھلتا تو اماں کے چہرے پر ایک لمحے کو امید جاگتی، پھر آہستہ آہستہ بجھ جاتی۔
محلے والوں کے رویے بدل گئے تھے۔ پہلے جو سلام میں پہل کرتے تھے، اب نظریں چرا لیتے۔ کوئی کہتا کہ بیٹا........
