Content Original Hoga To Zaroor Parha Jaye Ga
کنٹینٹ اوریجنل ہوگا تو ضرور پڑھا جائے گا
آج کی دنیا انٹرنیٹ کی دنیا ہے۔ سب کو سب کچھ پڑھنے کو ملتا ہے۔ لکھاری اور قاری ایک کلک پر دستیاب ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ تحریر اچھی ہو تو اپنے قاری کو ڈھونڈ لیتی ہے اور پھر ایک لکھاری کو مخصوص مزاج کے قارئین مل جاتے ہیں مگر بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اس مخصوص مزاج میں بھی ذیلی مزاج آ جاتے ہیں جن سے لکھاری اپنے طور پر یہ اندازہ لگاتا ہے کہ اس کے کون سے قارئین کس مزاج اور درجہ بندی میں آتے ہیں۔ یہ ایک لکھاری کے لیے کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتا۔ کچھ مضامین پر وہ بہت محنت کرتا ہے لیکن اس کے قاری اتنے کم ہوتے ہیں کہ وہ سوچ میں پڑ جاتا ہے اور کبھی کبھی روا روی میں لکھا گیا مضمون وہ داد و تحسین سمیٹتا ہے کہ لکھاری سوچے کہ اس میں ایسا کیا خاص تھا۔ بات یہی ہے کہ لکھاری قاری کا جتنا بھی نفسیات داں ہو جائے، اس کی پسند و ناپسند کی سوچ کے ہر حصے تک نہیں پہنچ سکتا اور یہ ہونا بہت ضروری ہے۔
لکھاری اپنی روش نہیں بدلتا۔ وہ وہی لکھتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ اسے اطمینان ہو چلا ہوتا ہے کہ اس کا لکھا پڑھا جائے گا لیکن اس کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا۔ مانا کہ لکھاری کے پاس اس کے ہم مزاج قارئین ہوتے ہیں........
