menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qaumi Muashi Imtihan

33 0
14.03.2026

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے سنگین اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں توانائی کا بحران محض ایک تکنیکی یا انتظامی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک قومی معاشی امتحان کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے سائے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال نے پاکستانی معیشت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے ہفتے میں تین تعطیلات اور کام کے اوقات میں کمی جیسے اقدامات بظاہر بجلی بچانے کی ایک کوشش نظر آتے ہیں، مگر معاشی ماہرین اسے ایک ایسے کینسر کا عارضی علاج قرار دے رہے ہیں جس کی جڑیں بہت گہری ہو چکی ہیں۔ جب تک بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات نہیں کی جاتیں ایسے ہنگامی اقدامات محض وقت گزاری ثابت ہوں گے۔

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اچانک اور تاریخی اضافے نے پاکستان کو ایک ایسی دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ کٹھن دکھائی دیتا ہے۔ پٹرول کی قیمت ایک دن تو اچانک 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی جو تادم تحریر 91 ڈالر فی بیرل ہے۔ چیز سیکیورٹیز کی حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر زیادہ عرصہ برقرار رہتی ہیں تو آنے والے مہینوں میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9 سے 11 فیصد تک مزید بڑھ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، برینٹ کروڈ کی قیمت جو 2026 کے آغاز میں تقریباً 68.70 ڈالر فی بیرل تھی اس میں محض چند ہفتوں میں 35 فیصد کا ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کا براہِ راست اثر مقامی صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے جس سے غریب طبقے کی قوتِ خرید جواب دے گئی ہے۔ پاکستان کی معیشت کا سب سے کمزور پہلو اس........

© Daily Urdu