menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

The Federalist Papers, Riyasat Sazi Ke 85 Chiragh

26 0
03.08.2026

دا فیڈرلسٹ پیپرز، ریاست سازی کے 85 چراغ

کتابوں کی دنیا بھی عجیب دنیا ہے۔ بعض کتابیں لکھی جاتی ہیں، پڑھی جاتی ہیں، داد سمیٹتی ہیں اور پھر وقت کے سمندر میں کہیں گم ہو جاتی ہیں۔ لیکن چند کتابیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو صرف اپنے زمانے کی نہیں رہتیں بلکہ آنے والی نسلوں کے فکری سفر کا حصہ بن جاتی ہیں۔ وہ کسی ایک قوم کی میراث نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ بن جاتی ہیں۔ ان کے صفحات پر صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ صدیوں کے تجربات، انسان کی سیاسی بصیرت، اجتماعی دانش اور ریاست سازی کے اصول سانس لیتے ہیں۔ ایسی ہی ایک غیر معمولی کتاب "دا فیڈرلسٹ پیپرز" ہے۔

یہ صرف 85 مضامین کا مجموعہ نہیں، ایک فکری مکالمہ ہے۔ یہ محض آئینی بحث نہیں، بلکہ انسان، اقتدار، آزادی، قانون، انصاف، وفاق، قیادت اور ریاست کے باہمی تعلق کا ایسا عمیق مطالعہ ہے جس کی مثال سیاسی فکر کی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔ دو سو برس سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود اس کتاب کی تازگی برقرار ہے۔ آج بھی قانون کے طالب علم، آئینی ماہرین، سیاسی فلسفے کے محققین، جج، دانشور اور ریاستی اداروں کے ذمہ داران اس سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ بعض کتابیں وقت کے ساتھ پرانی ہو جاتی ہیں، لیکن بعض کتابیں وقت کے ساتھ اپنی اہمیت اور زیادہ نمایاں کر دیتی ہیں۔ یہ انہی میں سے ایک ہے۔

اس کتاب کی ایک اور انفرادیت بھی ہے۔ دنیا کی بیشتر مشہور کتابوں کا ایک ہی مصنف ہوتا ہے، لیکن اس کتاب کے پیچھے تین غیر معمولی ذہن کارفرما تھے۔ الیگزینڈر ہیملٹن، جیمز میڈیسن اور جان جے۔ ان تینوں نے ایک مشترک قلمی نام اختیار کیا اور اپنے خیالات کو عوام تک پہنچایا۔........

© Daily Urdu