menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Akhenaten: Roshni, Baghawat Aur Tanhai Ka Firon

20 0
previous day

اخناتن: روشنی، بغاوت اور تنہائی کا فرعون

تاریخِ انسانی میں کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو اپنے عہد سے بہت آگے پیدا ہوتے ہیں۔ وہ اپنے زمانے کی روایتوں، خوفوں، عقیدتوں اور طاقت کے مراکز سے ٹکرا جاتے ہیں اور پھر یا تو تاریخ انہیں دیوانہ قرار دیتی ہے یا صدیوں بعد انہی کے نام کو بصیرت اور جرات کی علامت بنا دیتی ہے۔ قدیم مصر کا فرعون اخناتن بھی ایسا ہی ایک کردار تھا جس نے ہزاروں برس پہلے ایک ایسے خواب کی تعبیر تلاش کرنے کی کوشش کی جس کا تصور اُس زمانے کے انسان کے لیے تقریباً ناممکن تھا۔

مصر اُس وقت بے شمار خداؤں کی سرزمین تھا۔ مندروں کی طاقت شاہی محلوں سے کم نہ تھی۔ کاہن صرف مذہبی پیشوا نہیں بلکہ اقتدار کے اصل محافظ بھی تھے۔ ایسے میں ایک نوجوان فرعون کا یہ اعلان کہ سورج کی روشنی، یعنی آتن، ہی اصل اور واحد قوت ہے، صرف مذہبی تبدیلی نہیں بلکہ پورے سماجی اور سیاسی نظام کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔ نوبل انعام یافتہ مصری ادیب نجیب محفوظ نے اپنے ناول "اخناتن" میں اسی حیران کن شخصیت کو زندہ کیا ہے۔

یہ ناول محض ایک تاریخی بیانیہ نہیں بلکہ اقتدار، سچائی، خواب، مذہب، اصلاح اور انسانی تنہائی کی ایک عمیق داستان ہے۔ نجیب محفوظ نے اخناتن کو کسی مقدس ہیرو یا مطلق ظالم کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ ایک ایسے انسان کی صورت دکھایا ہے جو اپنے یقین کی آگ میں خود بھی جلتا ہے اور اپنے گرد موجود دنیا کو بھی بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔

اخناتن کا اصل نام امن حوتپ چہارم تھا۔ وہ ایک عظیم سلطنت کا وارث تھا جہاں مصر کی دولت، طاقت اور شان و شوکت کا چرچا دور دور تک تھا۔ لیکن یہ سلطنت اندر سے مذہبی طبقوں کے شکنجے میں جکڑی ہوئی تھی۔ معبدوں کے کاہن عوام کے ایمان پر حکومت کرتے تھے۔ ہر شہر کا الگ خدا تھا، ہر عبادت گاہ کی اپنی قوت........

© Daily Urdu