Aik Tareekhi Kirdar: Mercedes Barcha
ایک تاریخی کردار: مرسڈیز بارچا
ادب کی دنیا میں بعض نام ایسے ہوتے ہیں جو اپنی تخلیقات کے باعث امر ہو جاتے ہیں، مگر ان تخلیقات کے پیچھے کھڑے وہ خاموش کردار اکثر تاریخ کے حاشیوں میں گم ہو جاتے ہیں جنہوں نے کسی بڑے فنکار کو جینے، ٹوٹنے، سنبھلنے اور آخرکار شاہکار تخلیق کرنے کے قابل بنایا۔ گیبریل گارشیا مارکیز دنیا بھر میں اپنے لازوال ناول "تنہائی کے ایک سو سال" کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں، مگر اس ناول کے پس منظر میں ایک ایسی عورت بھی موجود تھی جس کی محبت، قربانی، استقلال اور خاموش رفاقت کے بغیر شاید یہ شاہکار کبھی وجود میں نہ آتا۔
اس عورت کا نام مرسڈیز راکیل بارچا پاردو تھا، جسے دنیا مختصراً مرسڈیز بارچا کے نام سے جانتی ہے۔ وہ چھ نومبر انیس سو بتیس کو کولمبیا کے شہر ماگانگوئے میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق ایک عام مگر باوقار خاندان سے تھا۔ قسمت نے ان کے حصے میں شہرت نہیں لکھی تھی، لیکن انہوں نے ایک ایسے شخص کا ہاتھ تھاما جسے آگے چل کر دنیا ادب کا جادوگر کہنے لگی۔ مرسڈیز بارچا کی زندگی اس حقیقت کی علامت ہے کہ بعض اوقات عظیم ترین کتابیں صرف ایک مصنف نہیں لکھتا بلکہ اس کے پیچھے ایک پورا جذبہ، ایک خاموش قربانی اور ایک وفادار روح بھی شریک ہوتی ہے۔
گیبریل گارشیا مارکیز جب نوجوان تھے تو ان کے اندر لفظوں کا ایک طوفان موجزن تھا۔ وہ صحافت بھی کرتے تھے، افسانے بھی لکھتے تھے، مگر غربت ان کے تعاقب میں رہتی تھی۔ ایسے دن بھی آئے جب گھر میں کھانے کے پیسے نہیں ہوتے تھے، بچوں کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جاتا تھا اور مستقبل دھند میں لپٹا دکھائی دیتا تھا۔ انہی دنوں مرسڈیز........
