Aik Tareekhi Kidar: Dr. Ruth Pfau
ایک تاریخی کردار: ڈاکٹر رُوتھ فاؤ
بعض انسان اپنے وطن کی سرحدوں سے بڑے ہو جاتے ہیں۔ اُن کی شناخت کسی ایک نسل، ایک مذہب یا ایک قوم تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ انسانیت کے ماتھے کا جھومر بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر رُوتھ فاؤ بھی ایسی ہی ایک عظیم ہستی تھیں۔ وہ جرمنی کی ایک نوجوان، تعلیم یافتہ اور خوش حال خاتون تھیں۔ اُن کے سامنے یورپ کی روشن اور آسودہ زندگی تھی، آرام و سکون کے بے شمار مواقع تھے، عزت، شہرت اور دولت کے دروازے کھلے ہوئے تھے، مگر اُنہوں نے اپنی زندگی کا رخ اُس سرزمین کی طرف موڑ دیا جہاں غربت تھی، بیماری تھی، محرومی تھی اور سب سے بڑھ کر ایسے انسان تھے جنہیں معاشرے نے جیتے جی مردہ قرار دے دیا تھا۔
یہ انیس سو ساٹھ کی بات ہے جب ایک تیس سالہ جرمن خاتون کراچی پہنچیں۔ اُن کے دل میں ایک عجیب بے چینی تھی۔ یہ بے چینی اُنہوں نے اُس وقت محسوس کی جب انہوں نے بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم میں پاکستان کے جذام زدہ مریضوں کی حالت دیکھی۔ وہ لوگ جن کے جسم گل رہے تھے، جن کے ہاتھ پاؤں بکھر رہے تھے، جن کے زخموں سے پیپ بہتی تھی، مگر اُن کے جسم سے زیادہ اُن کی روحیں زخمی تھیں کیونکہ معاشرہ اُنہیں عذابِ الٰہی سمجھ کر چھوڑ چکا تھا۔ انسان جب بیماری سے زیادہ تنہائی میں مرنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ تہذیب اپنی شکست تسلیم کر چکی ہے۔ ڈاکٹر رُوتھ فاؤ نے اُس شکست خوردہ انسانیت کو سہارا دینے کا فیصلہ کیا۔
کراچی کے آئی آئی چندریگر روڈ کے قریب وہ بدنام بستی جہاں جذام کے مریضوں کو گویا زندہ لاشوں کی طرح پھینک دیا جاتا تھا، ڈاکٹر رُوتھ فاؤ نے وہیں ایک جھونپڑی میں اپنا چھوٹا سا کلینک قائم کیا۔ اُس وقت لوگ ان مریضوں کے قریب جانے سے خوفزدہ رہتے تھے۔ کئی لوگ دور کھڑے ہو کر روٹیاں پھینک جاتے تھے تاکہ چھونے کی نوبت نہ آئے۔ اپنے بھی اُن سے منہ موڑ لیتے تھے۔ یہ صرف بیماری نہ تھی، یہ سماجی جلاوطنی تھی۔ مگر ایک غیر ملکی عورت اُن کے زخم دھو رہی تھی، اُن کی پٹیاں بدل رہی تھی، اُن کے سروں پر ہاتھ رکھ رہی تھی، اُنہیں دلاسہ دے رہی تھی۔
یہ منظر کسی افسانے........
