menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

70 Ghante Abhi Baqi Hain

26 0
19.04.2026

سفارت کاری کا ایک قدیم اصول ہے: جب باہر کی دنیا سب سے زیادہ ساکت دکھائی دے، عین اسی لمحے مذاکرات کی میزوں پر آندھیاں چل رہی ہوتی ہیں۔

آج اٹھارہ اپریل ہے۔ تین دن بعد جنگ بندی کی مدت ختم ہو رہی ہے اور دنیا کا ہر اسٹاک مارکیٹ، تیل کا ہر تاجر، ہر بڑا سفارت خانہ، تہران کا ہر وارڈ اور واشنگٹن کا ہر تھنک ٹینک ایک ہی سوال پر سانس روکے بیٹھا ہے: کیا سوموار کو اسلام آباد میں دوسرا دور ہوگا؟ اور اگر ہوا تو کیا معاہدہ طے پائے گا؟ آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کی دھمکیاں ہیں، ایران کے ڈٹ جانے کی خبریں ہیں، دنیا دم سادے کھڑی ہے۔

این پی آر نے آج صبح ایک نادر رپورٹ شائع کی۔ سکاٹ نیومن نے ان تینوں لوگوں سے بات کی جنھوں نے ایرانیوں کے ساتھ اصل مذاکرات کی میز پر برسوں گزارے ہیں۔ وینڈی شرمین، 2015 کے جے سی پی او اے کی امریکی سربراہ مذاکرات کار۔ روب میلی، اوبامہ اور بائیڈن کے دور میں ایران کے خصوصی مندوب۔ جان فائنر، وزیر خارجہ جان کیری کے چیف آف اسٹاف۔ تینوں کی زبان پر ایک ہی جملہ تھا: ایرانیوں سے ایک ہفتے میں معاہدہ نہیں ہو سکتا۔

شرمین نے دو ٹوک کہا: "ایران سے مذاکرات ایک دن کا کام نہیں۔ ایک ہفتے کا بھی نہیں۔ جے سی پی او اے تک پہنچنے میں ہمیں پورے اٹھارہ ماہ لگے تھے"۔ فائنر نے بتایا کہ کیری اور ظریف اٹھارہ مختلف تاریخوں پر گیارہ مختلف شہروں میں ملاقی ہوئے۔ کبھی ایک ہی دن میں دو دو بار اور سب سے آخری دور وینا کے کوبرگ محل میں انیس دن تک مسلسل چلا۔

میلی نے اصل بات یوں کہی کہ سارا مضمون اسی ایک جملے پر کھڑا ہے: "ٹرمپ جذباتی ہیں، متلون مزاج ہیں۔ ایرانی قیادت ضدی ہے، ثابت قدم ہے"۔ یہ دو طرزوں کا تصادم ہے۔ ایک فریق کو فوری نتیجہ چاہیے، دوسرے کو وقت۔ ایک کو "گرینڈ بارگین" کی شہ سرخی درکار ہے، دوسرے کو تین سو صفحوں کا وہ ضمیمہ جس کا ہر جملہ، ہر کوما، ہر نقطہ طے ہو۔

فائنر نے ایک ایسا انکشاف کیا جو پڑھنے والے کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ایرانی مذاکرات کار کیا کرتے تھے؟"وہ لیکچر دیتے تھے۔ کہتے تھے: پہلے میں آپ کو ایرانی تہذیب کی پانچ ہزار سالہ تاریخ سناتا ہوں"۔ پانچ ہزار سال کا درس اور کیری خاموشی سے سنتے رہتے تھے، پھر نکتے پر لوٹ آتے۔ فائنر کے الفاظ میں: "ایرانیوں کی چال یہ تھی کہ ہر بات پر نہ کہو اور دیکھو کہ امریکہ کے لیے کون سی چیز واقعی اہم ہے۔ جو سب سے آخر میں بچتی تھی، اس پر رعایت دیتے تھے"۔ یہی وہ بازاری چال ہے جو ایرانی قالین فروش صدیوں سے برتتے آ........

© Daily Urdu