Israel Mein Intikhabat
اسرائیل میں اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات نے ایک بار پھر جمہوریت، حقِ رائے دہی اور سیاسی اختیار سے متعلق بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف تقریباً 73 لاکھ اسرائیلی شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، دوسری طرف لاکھوں فلسطینی ایسے ہیں جن کی سرحدوں، نقل و حرکت، روزمرہ زندگی اور قانونی حیثیت پر اسی حکومت کے فیصلوں کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، مگر انہیں اس حکومت کے انتخاب میں براہِ راست حصہ لینے کا حق حاصل نہیں۔ یہی اس انتخاب کا سب سے اہم اور قابلِ غور پہلو ہے کہ فیصلے کرنے کا اختیار ایک طرف ہے، جبکہ ان فیصلوں کے نتائج بھگتنے والے لاکھوں افراد دوسری طرف کھڑے ہیں۔
اسرائیل کا انتخابی نظام پاکستان سمیت کئی دوسرے ممالک سے مختلف ہے۔ وہاں ووٹر کسی انفرادی امیدوار کے بجائے سیاسی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں۔ اسرائیلی پارلیمان، جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے، 120 ارکان پر مشتمل ہے اور جماعتوں کو قومی سطح پر حاصل ہونے والے ووٹوں کے تناسب سے نشستیں ملتی ہیں۔ تاہم پارلیمان میں نمائندگی حاصل کرنے کے لیے کسی جماعت کو کم از کم 3.25 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس حد سے کم ووٹ لینے والی جماعت پارلیمانی نشستوں سے محروم رہتی ہے۔
اس نظام میں اب تک کوئی جماعت تنہا حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل نہیں کر سکی۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی سیاست میں 61 نشستوں کا ہندسہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کنیسٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی جماعت یا سیاسی اتحاد کو کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا حکومت بنانے کی ضمانت نہیں، کیونکہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ کون سی جماعتیں مل کر اکثریت قائم کر سکتی ہیں۔ حکومت سازی کے لیے مقررہ مدت میں مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہونے کی صورت میں ملک کو دوبارہ انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔
تاہم اس انتخاب کو صرف جماعتوں کی نشستوں اور حکومت سازی کے حساب کتاب تک محدود کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ووٹ ڈالنے کا حق کن لوگوں کو حاصل ہے اور کن لوگوں کو اس سیاسی عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔ اسرائیل کے یہودی شہریوں کے ساتھ اسرائیلی شہریت رکھنے والے فلسطینی شہری بھی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں آباد اسرائیلی شہریوں کو بھی کنیسٹ کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔ اس کے برعکس غزہ کے فلسطینی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں رہنے والے فلسطینی ان انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ مشرقی یروشلم کے بیشتر فلسطینی باشندوں کو بھی کنیسٹ کے انتخابات میں ووٹ دینے کا حق حاصل........
