menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ye Pakhtoono Ki Jang Nahi, Marka e Haq o Batil Hai

69 0
28.02.2026

یہ پختونوں کی جنگ نہیں، معرکہ حق و باطل ہے

یہ علاقہ جہاں میں رہتا ہوں، یہ پانچ ہزار سال سے میرا نہیں ہے۔ میرے اجداد یہاں تین سو سال پہلے آئے۔ افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے علاقہ خوگیانی سے آئے، اسی مناسبت سے ہم معروف زئی پٹھان قبیلے کے لوگ پہلے خوگانی کہلائے اور پھر مقامی سطح پر زیادہ آسان نام خاکوانی بن گیا۔

میرے والد خاکوانی جبکہ والدہ مرحومہ ترین پٹھان تھیں۔ پشین سے تعلق رکھنے والا ترین قبیلہ مگر ہمارے ننھیال ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہوچکے تھے اور اب وہ ڈی آئی خان کے بیشتر پٹھان قبائل علیزئی، ملیزئی، بارک زئی، سدوزئی، اکبرزئی، وغیرہ کی طرح سرائیکی بولنے والے ترین پٹھان ہی ہیں۔ پٹھان مگر نسب سے بنتا ہے صرف زبان سے نہیں۔ ہر مذہب، ہر قوم قابل احترام ہے لیکن مفروضے کے طور پر بات کر رہا ہوں کہ اگر کوئی سکھ، تامل، نیپالی، گورکھا وغیرہ پشتو بولے تو وہ پٹھان نہیں بن جائے گا۔ کوئی غیر مسلم پشتو سیکھ لے تو وہ کیا پشتون بن جائے گا؟ نہیں ایسا نہیں ہوتا۔ رگوں میں دوڑتے پھرتے خون کی اپنی خصوصیات ہیں، ڈی این اے الگ ہوتا ہے، سب سے بڑھ کر آپ کس نظریے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، یہ بھی ڈی این اے پر اثر ڈالتا ہے۔

ہمارے اباؤ اجداد احمد شاہ ابدالی کے ساتھ ہندوستان آئے، جنگیں لڑے اور پھر بابا ابدالی نے ملتان کی حکومت پٹھانون کو سونپ دی۔ خاکوانی ملتان کے حاکم یا نواب رہے، سدوزئیوں کے ساتھ یہ حکمران تھے۔ ملتان کے آخری پٹھان نواب مظفر خان سدوزئی نے........

© Daily Urdu