Aik Taqreer Bamuqabla So Taqreerain
ایک تقریر بمقابلہ سو تقریریں
اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی ایک مخصوص بحث لوٹ آتی ہے۔ ہمارے سیکولر اور لبرل دوست قائداعظم محمد علی جناح کی گیارہ اگست انیس سو سینتالیس والی تقریر کے چند جملے نکالتے ہیں، انہیں خوبصورت سا پوسٹر بنا کر لگاتے ہیں اور فاتحانہ انداز میں اعلان کرتے ہیں کہ لیجیے، ثابت ہوگیا، بانی پاکستان تو خود ایک سیکولر ریاست چاہتے تھے۔ اگلے کئی دن یہی ورد چلتا رہتا ہے۔ خاکسار برسوں سے یہ منظر دیکھ رہا ہے اور ہر بار ایک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ اتنی بڑی عمارت اتنی چھوٹی بنیاد پر کھڑی کیسے کی جا سکتی ہے؟
پہلے یہ دیکھ لیجیے کہ وہ تقریر ہوئی کن حالات میں تھی۔ دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس تھا، قائداعظم اس کے صدر منتخب ہوئے تھے اور آزادی میں صرف تین دن باقی تھے۔ پنجاب اور بنگال جل رہے تھے، ہجرت کے قافلے لٹ رہے تھے، لاشیں گر رہی تھیں۔ جو غیر مسلم اس علاقے میں رہ گئے تھے وہ سہمے ہوئے تھے کہ نئی ریاست میں ان کے ساتھ کیا برتاؤ ہوگا؟ ایسے وقت میں ایک ذمہ دار سربراہ کا پہلا فرض یہی بنتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ کا یقین دلائے۔
قائداعظم نے یہی کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ آزاد ہیں، اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مسجدوں میں جائیں، اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جائیں، ریاست کو اس سے کوئی سروکار نہیں، آپ سب ریاست کے برابر شہری ہیں۔ ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیے، ان جملوں میں ایسا کیا ہے جو کسی اسلامی ریاست کے تصور سے ٹکراتا ہو؟ غیر مسلم شہریوں کو عبادت کی آزادی اور جان و مال کا تحفظ دینا تو اسلامی ریاست کا اپنا مطالبہ ہے، کوئی رعایت یا احسان نہیں۔
اصل........
