Afghanistan Strikes: 4 Aha Sawal Aur Unke Jawab
افغانستان سٹرائیکس: چار اہم سوال اور ان کے جواب
افغانستان پر سٹرائیکس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تین چار سوال بار بار پوچھے جارہے ہیں، اب ضروری ہے کہ ان پر بات کی جائیتاکہ کنفیوژن دور ہو اور عام آدمی کو بات سمجھ آ سکے۔ افغانستان پر حملے مگر پاکستان میں کیوں نہیں؟
پہلی بات یہ کہی جا رہی ہے، " پاکستانی فورسز نے افغانستان پر تو سٹرائکس کر ڈالی ہیں کہ وہاں پر ٹی ٹی پی، گل بہادر گروپ وغیرہ کے ٹھکانے ہیں۔ اتنی دور کی معلومات ہیں تو پاکستان کے اندر کارروائی ان گروپس پر کارروائی کیوں نہیں کرتے؟"
اس سوال میں دراصل معصومیت سے زیادہ بے خبری اور لاعلمی موجود ہے۔ کوئی نہایت بے خبر شخص ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ پاکستان میں کارروائیاں نہیں ہو رہیں۔ ہر روز تو میڈیا اور سوشل میڈیا میں خبریں آتی ہیں کہ فلاں جگہ فتنہ الخوارج کے اتنے دہشت گرد مارے گئے، فلاں جگہ ریڈ ہوا۔ کارروائی اور کس طرح کی جاتی ہے؟
پچھلے سال یعنی دو ہزار پچیس میں پاکستان نے دہشت گردی کے واقعات کے ردعمل میں پچھہتر ہزار انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں کیں۔ جی آپ نے درست پڑھا پچھہتر ہزار (75,175) آپریشنز۔ یہ دو سو چھ آپریشن روز کے بنتے ہیں۔ ان میں ڈھائی ہزار کے قریب دہشت گرد مارے گئے، مزید نپے تلے اعداد وشمار لیں تو یہ 2597 بنتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہوا کہ پاکستان کے اندر تو مسلسل کارروائیاں ہو رہی ہیں۔
یہ بات مگر یاد رکھیں کہ پاکستان میں اب ٹی ٹی پی وغیرہ کے دہشت گرد ادھر سے اُدھر مسلسل بھاگتے رہتے۔ ایک رات کسی علاقے میں، دوسری کسی علاقے میں۔ اس لئے یہاں انٹیلی جنس بیسڈ ریڈ وغیرہ ہی........
