menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Adal Ka Bojh

30 0
18.03.2026

اب نیٹو کے اتحادیوں کا شاید وجود نظر نہیں آرہا لیکن آج کل سب سے بڑے اتحادی "اپسٹین جزیروی" یا اپسٹین کے باس کے یرغمالی اس وقت ایک مضبوط اتحادیوں کی شکل میں سامنے آچکے ہیں۔ جے فری اپسٹین کے جزیروں کا دنیا میں چرچہ ہے۔ یہاں فائلوں کے ساتھ pedophile کے راز اور ساتھ تیسری عالمی جنگ کے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔ ویسے کسی پاکستانی کا ابھی تک اس گھنونے قصے میں کوئی نام سامنے نہیں آیا جن کا آیا بھی ہے وہ اس کے وجود سے دھائیاں قبل وہاں کا پھیرا لگا چکے ہیں ہو سکتا ہے پچیس تیس سال قبل انہوں نے اس جزیرے کو آباد کرنے کے مشورے یا اپنی گراں قدر vision دی ہوکہ یہ "تیسرے عالمی امن" کے لئے Absolutely سود مند ہے۔ جے فری کی "تکنیک" یوں سمجھ آرہی ہے کہ جیسے کسی نے خود کو تھوڑا پھنسا کر باقی دشمنوں کو ہمیشہ کے لئے پھنسا دیا ہو۔

نیویارک میں پیدا ہونے والے اپسٹین نے اپنے کیریئر کی ابتدا سکول ٹیچر سے کی جہاں وہ میتھ ٹیچنگ سے دو چار ہاتھ کرتا تھا۔ ریاضی پڑھانے والے کی صرف ریاضی سے اراضی تو بنتی نہیں اس کے لئے اسے کچھ نہ کچھ جمع تفریق کرنا پڑتی ہے لیکن اپسٹین تیزی سے ضربیں لگاتا ہوا کیا سے کیا جمع کرتا گیا، اس کے لارڈز نے اس پر خوب پیسہ نشاور کیا، اس نے جیویارک میں جائیدادیں بنائیں جہازوں کے ساتھ جزیرے بھی خرید لئے یوں بڑے بڑے نامور لوگوں کو اپنے مختلف قسم کے جال میں پھنسایا پھر یہاں ایسے ایسے مالز بنائے........

© Daily Urdu