menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mimbar, Ilm Aur Zimmedari

29 0
09.10.2026

منبر، عِلم اور ذمہ داری

جہالت کا سب سے خطرناک روپ وہ ہوتا ہے جو یقین کے لہجے میں گفتگو کرتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی شخص کسی نظریے سے اختلاف کرتا ہے۔۔ اختلاف انسانی فکر کا فطری حصہ ہے۔ اصل المیہ تب پیدا ہوتا ہے جب کسی اصطلاح کو سمجھے بغیر اسے اپنے مذہبی خوف کا عنوان بنا دیا جائے اور پھر منبر سے اسے اس یقین کے ساتھ بیان کیا جائے کہ گویا پوری دنیا کو اسی مفہوم کا پابند ہونا چاہیے۔ ایسے لمحوں میں سوال صرف ایک غلط تعریف کا نہیں رہتا، سوال یہ بن جاتا ہے کہ ہم نے علم، مذہب اور اختلافِ رائے کے ساتھ اپنا تعلق آخر کس مقام پر لا کھڑا کیا ہے؟

سیکولرزم اور الحاد کو ایک ہی چیز سمجھ لینا اسی فکری الجھن کی ایک نمایاں مثال ہے۔ الحاد بنیادی طور پر خدا کے وجود سے انکار یا خدا پر ایمان نہ رکھنے سے متعلق ایک عقیدتی موقف ہے، جبکہ سیکولرزم کا تعلق ریاست، قانون اور اجتماعی زندگی میں مذہب کے کردار اور شہریوں کے مذہبی اختلاف کے ساتھ ہے۔ ایک شخص خدا پر گہرا ایمان رکھنے والا مسلمان بھی ہو سکتا ہے اور اس اصول کا حامی بھی کہ ریاست ہر شہری کے مذہبی عقیدے کو برابر کا قانونی احترام دے۔ یہاں بظاہر دو الگ دنیائیں نہیں بلکہ دو الگ دائروں کی بات ہو رہی ہے۔۔ ایک انسان کا ذاتی ایمان اور دوسرا اجتماعی نظم کا اصول۔

یہ فرق سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ مذہب صرف عقیدہ نہیں، انسان کے لیے ایک اخلاقی اور روحانی تجربہ بھی ہے، لیکن ریاست کسی فرد کے باطن میں داخل نہیں ہو سکتی۔ وہ یہ طے نہیں کر سکتی کہ کون کس خدا کو مانے، کون کس عبادت گاہ میں جائے، کس مذہب کی پیروی کرے یا کس مذہبی عقیدے کو اپنے لیے سچ سمجھے۔ ریاست کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ شہری کے حقِ ایمان کے ساتھ ساتھ دوسرے شہری کے حقِ اختلاف کی بھی حفاظت کرے۔ اگر ایک مسلمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے عقیدے پر قائم رہے تو کسی غیر مسلم کو........

© Daily Urdu