Har Chamakti Cheez Sona Nahi Hoti
ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ خطرہ دشمن سے ہوتا ہے، حالانکہ بعض اوقات انسان کو سب سے زیادہ نقصان وہ قربت پہنچاتی ہے جسے وہ دوستی سمجھ بیٹھتا ہے۔ دشمن کی سمت معلوم ہوتی ہے، اس کے ارادے کا اندازہ بھی ہو جاتا ہے، مگر وہ شخص زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے جو بظاہر آپ کے حلقۂ احباب کا حصہ ہو، آپ کی روزمرہ زندگی سے باخبر ہو، آپ کی کامیابیوں کا تماشائی ہو، مگر آپ کی خوشی میں شریک نہ ہو۔ وہ آپ کے ساتھ چلتا نہیں، صرف یہ دیکھتا رہتا ہے کہ آپ کہاں تک پہنچے ہیں۔ ایسی رفاقت بظاہر بے ضرر محسوس ہوتی ہے، مگر رفتہ رفتہ انسان کی خود اعتمادی، سکون اور نجی زندگی پر بوجھ بننے لگتی ہے۔
ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں دوسروں کی زندگی دیکھنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہوگیا ہے۔ چند لمحوں میں معلوم ہو جاتا ہے کہ کون کہاں گیا، کس نے کیا خریدا، کس منصوبے پر کام کر رہا ہے، کس کی کامیابی ہوئی اور کس کے حالات خراب ہیں۔ سوشل میڈیا نے فاصلے کم نہیں کیے، بلکہ بعض اوقات دوسروں کی زندگیوں میں غیر ضروری جھانکنے کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اب کسی شخص کو آپ کا قریبی ہونے کے لیے آپ کے پاس بیٹھنا بھی ضروری نہیں، وہ خاموشی سے آپ کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی آپ کو دیکھ رہا ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ آپ کو کس نظر سے دیکھ رہا ہے۔
کسی کی ترقی دیکھ کر دل میں خوشی محسوس ہونا انسانی تعلق کی خوبصورتی ہے، لیکن کسی کی کامیابی کو اپنی ناکامی سمجھ لینا ایک خطرناک نفسیاتی کیفیت ہے۔ ایسے لوگ دوسروں کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان کے اندر سوال پیدا نہیں ہوتا کہ میں خود کیا بہتر کر سکتا ہوں، ان کے اندر یہ خواہش جنم لیتی ہے........
