menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dushman Bahir Nahi, Andar Hai

22 0
16.10.2026

دشمن باہر نہیں، اندر ہے

ہمیں زندگی بھر یہ سکھایا جاتا ہے کہ دنیا خطرناک ہے، دشمنوں سے بچو، حادثات سے بچو، بیماریوں سے بچو، برے لوگوں سے بچو۔ مگر ایک خطرہ ایسا ہے جس سے بچنے کی تلقین شاید سب سے کم کی جاتی ہے، حالانکہ وہ ہر وقت ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ یہ خطرہ کسی اجنبی گلی، کسی دشمن ملک یا کسی مخالف شخص میں نہیں، ہماری اپنی ذات کے اندر چھپا ہوتا ہے۔ انسان کبھی اپنے ہاتھ سے اپنی صحت برباد کرتا ہے، کبھی اپنے فیصلوں سے اپنا مستقبل، کبھی اپنے تعصبات سے اپنے رشتے اور کبھی اپنے جذبات کے ہاتھوں اپنی جان تک خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

ہم اپنی صحت کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں، وہ اس حقیقت کی ایک سادہ مگر افسوس ناک مثال ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ مسلسل غیر متوازن خوراک، حد سے زیادہ چینی، چکنائی، نمک، بے وقت کھانا اور جسمانی سرگرمی سے دوری ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ہے، مگر علم اور عمل کے درمیان ایک عجیب خلیج پیدا ہو چکی ہے۔ رات گئے بھوک لگے تو ہم صحت نہیں، خواہش کا انتخاب کرتے ہیں۔ چند لمحوں کی لذت کے مقابلے میں آنے والے برسوں کی صحت کو معمولی سمجھ لیتے ہیں۔ پھر جب جسم احتجاج کرتا ہے تو ہم بیماری کو قصوروار ٹھہراتے ہیں، حالانکہ کئی مرتبہ بیماری اچانک نہیں آتی، ہم اسے برسوں کی عادتوں، غفلتوں اور غلط انتخابوں سے دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔

ہم اپنے موبائل فون کی بیٹری ایک فیصد رہ جائے تو پریشان ہو جاتے ہیں، مگر اپنے جسم کی توانائی، نیند، خوراک اور ذہنی سکون کی مسلسل کمی کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں گاڑی کے انجن کے لیے معیاری تیل چاہیے، مگر اپنے جسم کے لیے کچھ بھی کھا لینے کو معمول سمجھتے ہیں۔ بیماری آنے کے بعد دوا کو اپنی عادتوں کا متبادل بنا لیتے........

© Daily Urdu