Apno Ke Bhes Mein
بعض خطرات دروازہ توڑ کر گھر میں داخل نہیں ہوتے، وہ اعتماد، رشتے اور اپنائیت کا لباس پہن کر آتے ہیں۔ اسی لیے بچوں کی حفاظت صرف اس بات کا نام نہیں کہ انہیں باہر کی دنیا سے بچا لیا جائے، اصل حفاظت یہ ہے کہ انہیں اتنا بااعتماد بنایا جائے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والی کسی نامناسب بات کو چھپانے کے بجائے اپنے والدین تک پہنچا سکیں۔ المیہ یہ ہے کہ ہم بچوں کو اجنبیوں سے محتاط رہنے کی نصیحت تو کرتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں سکھاتے کہ خطرہ ہمیشہ اجنبی چہرے سے نہیں آتا، بعض اوقات وہ ہمارے اپنے حلقۂ احباب میں موجود ہوتا ہے۔
ہماری معاشرتی تربیت میں ایک عجیب تضاد ہے۔ ہم بچوں کو بڑوں کا احترام سکھاتے ہوئے کبھی کبھی انہیں اپنی مرضی، اپنی ناپسند اور اپنے خوف کے اظہار سے محروم کر دیتے ہیں۔ بچہ کسی شخص سے ملنا نہیں چاہتا تو فوراً اسے بدتمیزی قرار دے دیا جاتا ہے۔ کوئی بچی کسی رشتہ دار کے قریب جانے سے گریز کرے تو اسے ضدی یا نخرے والی کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ ہم یہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ اس انکار کے پیچھے کوئی ایسی وجہ بھی ہو سکتی ہے جسے بچہ الفاظ میں بیان کرنے کے قابل نہیں۔
خاص طور پر بچوں کے معاملے میں خاموشی کو ہمیشہ رضامندی سمجھنا خطرناک ہے۔ کم عمر بچہ اپنے ساتھ ہونے والی ہر نامناسب بات کو پہچان بھی نہیں پاتا اور بیان بھی نہیں کر سکتا۔ اسے صرف اتنا محسوس ہوتا ہے کہ کسی خاص شخص کی قربت اسے بے آرام کرتی ہے، کسی مخصوص جگہ پر جانا اسے اچھا نہیں لگتا یا کسی فرد کے سامنے آتے ہی اس کے رویے میں تبدیلی آ جاتی ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی علامتیں والدین کے لیے شور مچاتی گھنٹی ہونی چاہییں، مگر ہم اکثر انہیں ضد، شرارت یا بدتمیزی کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ بچوں کا اعتماد محض محبت بھری باتوں سے پیدا نہیں ہوتا، اس کے لیے گھر کا ماحول........
