Youm e Azadi, 14 August, Mubarak Ho
یومِ آزادی، 14 اگست، مبارک ہو
14 اگست ہمارے لیے محض کیلنڈر پر درج ایک تاریخ نہیں۔ یہ ایک خواب کے حقیقت بننے کا دن ہے، ایک ایسی صبح جس کے پیچھے ہجرتوں کی گرد، بچھڑنے والوں کے آنسو، قربانیوں کا لہو اور ایک آزاد وطن کی آرزو شامل ہے۔ ہر سال جب سبز ہلالی پرچم بلند ہوتا ہے، جب قومی نغمے فضا میں گونجتے ہیں، تو ہمارے اندر کوئی بہت پرانی اور بہت گہری یاد جاگ اٹھتی ہے۔ شاید اسی لیے بعض نغمے صرف سنے نہیں جاتے، وہ دل کے اندر اتر جاتے ہیں۔
"یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے"
یہ مصرعہ دراصل مبارک باد سے بڑھ کر ایک سوال ہے: کیا ہم واقعی اس وطن کے پاسبان ہیں؟
وطن صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا۔ وطن ایک اجتماعی یادداشت، ایک مشترکہ خواب اور آنے والی نسلوں کے ساتھ کیا گیا ایک عہد ہوتا ہے۔ زمین ہمیں صرف رہنے کی جگہ دیتی ہے، لیکن وطن ہمیں ایک شناخت دیتا ہے۔ اسی لیے آزادی کا اصل مفہوم صرف یہ نہیں کہ کوئی بیرونی طاقت ہم پر حکومت نہیں کرتی، آزادی کا گہرا مفہوم یہ ہے کہ ہم اپنے اجتماعی مستقبل کے فیصلے ذمہ داری، شعور اور انصاف کے ساتھ خود کر سکیں۔
اس لیے 14 اگست پر جشن مناتے ہوئے ہمیں اپنے آپ سے یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ آزادی نے ہم سے کیا تقاضا کیا تھا اور ہم نے اس تقاضے کا کتنا حق ادا کیا؟
اس چمن کے پھولوں پر رنگ و آب تم سے ہے
اس زمیں کا ہر ذرہ آفتاب تم سے ہے
کتنی خوبصورت ذمہ داری ہے اس میں۔ وطن کی خوبصورتی صرف اس کے پہاڑوں، دریاؤں، شہروں یا میدانوں سے نہیں، اس کے اصل رنگ اس کے لوگوں کے کردار سے بنتے ہیں۔ ایک استاد جب دیانت داری سے علم بانٹتا ہے، ایک مزدور جب اپنے ہاتھوں سے رزق کماتا ہے، ایک ڈاکٹر جب انسانیت کو مقدم رکھتا ہے، ایک طالب علم جب علم کو مقصد بناتا ہے، ایک ماں جب اپنے بچے کو کردار........
