Pakistan Mein Aam Admi Ki Koi Awaz Hai?
پاکستان میں عام آدمی کی کوئی آواز ہے؟
آپ کے محلے میں پانی نہیں آتا۔ سڑک ٹوٹی ہوئی ہے۔ گندگی کے ڈھیر لگے ہیں۔ اسکول کی حالت خراب ہے۔ سرکاری ڈسپنسری میں ڈاکٹر نہیں۔ آپ شکایت کرتے ہیں۔ کسی دفتر میں جاتے ہیں۔ کسی افسر سے ملتے ہیں۔ کسی سیاسی کارکن یا منتخب نمائندے سے رابطہ کرتے ہیں۔ شاید کسی بااثر شخص سے سفارش بھی کرواتے ہیں۔
لیکن پھر ایک اہم سوال سامنے آتا ہے: جس مسئلے کا سامنا میں کر رہا ہوں، اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار میرے پاس کیوں نہیں؟
یہی سوال شاید پاکستان کی جمہوریت کے سب سے اہم سوالات میں سے ایک ہے۔ ہم نے جمہوریت کو بہت عرصے سے ایک ایسے عمل کے طور پر سمجھا ہے جس میں پانچ سال بعد ووٹ ڈالنا، حکومت بنانا اور پھر اگلے انتخابات کا انتظار کرنا شامل ہے۔ لیکن اگر جمہوریت کا مطلب صرف ووٹ دینا ہے تو پھر باقی چار سال شہری کہاں ہے؟ کیا وہ صرف ووٹر ہے، یا ریاست کا شریک بھی ہے؟
ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔ آپ کے محلے میں پانی کی فراہمی، صفائی، نکاسیٔ آب، سڑکوں، مقامی اسکولوں، بنیادی صحت، بازاروں اور ٹریفک جیسے مسائل روزانہ پیدا ہوتے ہیں۔ ان مسائل سے سب سے زیادہ متاثر بھی مقامی لوگ ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے حل کے بارے میں فیصلہ اکثر وہاں نہیں ہوتا جہاں مسئلہ موجود ہے۔ اختیار کہیں اور ہے۔ فیصلہ کہیں اور ہوتا ہے اور عام آدمی صرف نتیجے کا انتظار کرتا ہے۔
پھر ہم شکایت کرتے ہیں کہ لوگوں کو جمہوریت پر اعتماد کیوں نہیں۔ شاید اس لیے کہ جس جمہوریت میں شہری کی روزمرہ زندگی پر اس کا کوئی اختیار نہ ہو، وہ جمہوریت اس کے لیے ایک دور کی سیاسی سرگرمی بن جاتی ہے، اس کی اپنی زندگی کا حصہ نہیں۔
اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں، آج پاکستان میں ایک بحث زور پکڑ رہی ہے کہ موجودہ صوبے بہت بڑے ہیں، اس لیے انہیں تقسیم کرکے مزید صوبے بنائے جائیں۔ یہ بحث اپنی جگہ اہم ہے۔ لیکن شاید ہمیں اس سے پہلے ایک اور سوال........
