menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ab Hum Pakistan Ko Kya Banaye Ge?

28 0
06.09.2026

اب ہم پاکستان کو کیا بنائیں گے؟

محترم راشد لنگڑیال صاحب کے حالیہ مضامین، بالخصوص "اناسی برس کا سود و زیاں" اور "تکثیریت کا آدرش بحوالہ سود و زیاں" پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں ایک سوال مسلسل گونجتا رہا ہے، ایسا سوال جو شاید ان مضامین کا براہِ راست موضوع نہیں، مگر ان کا فطری حاصل ضرور ہے: اب ہم پاکستان کو کیا بنائیں گے؟

راشد صاحب نے ہمیں تاریخ کے ایک اہم موڑ پر واپس لے جا کر یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ پاکستان محض ایک حادثۂ تاریخ نہیں تھا، اس کے پیچھے ایک سیاسی تجربہ، ایک اجتماعی احساس، ایک تاریخی خوف اور ایک واضح آرزو کارفرما تھی۔ انہوں نے بقا اور ناکامی، کامیابی اور محرومی، شناخت اور تکثیریت، ان سب کو ایک ایسے تناظر میں دیکھا ہے جس میں پاکستان کو نہ تو محض ایک کامیاب معجزہ بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے اور نہ ایک مسلسل ناکامی کہہ کر اس کے وجود کے سوال کو ہی بے معنی قرار دیا جا سکتا ہے۔

ان کے مضامین کا ایک بڑا فکری حاصل میرے لیے یہ ہے کہ پاکستان کا قیام ایک تاریخی سوال تھا، مگر پاکستان کا مستقبل ایک اخلاقی سوال ہے اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ ختم نہیں ہوتی بلکہ ہماری ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔ پاکستان کیوں بنا، اس پر گفتگو ہوتی رہے گی۔ پاکستان کیسے بچا، اس پر بھی تاریخ اپنا فیصلہ دیتی رہے گی۔ پاکستان نے کیا پایا اور کیا کھویا، اس کا حساب بھی ضروری ہے۔

مگر اناسی برس بعد شاید ہم سے ایک اور سوال پوچھا جانا چاہیے: اب ہم پاکستان کو کیا بنائیں گے؟

یہ سوال پہلے تمام سوالوں سے مختلف ہے۔ کیونکہ پہلے سوال کا تعلق تاریخ سے تھا، اس کا تعلق ہم سے ہے۔

1947 میں ایک ریاست وجود میں آئی تھی۔ مگر شاید پاکستان اس دن مکمل طور پر وجود میں نہیں آیا تھا۔ ایک ملک حاصل ہوا تھا، ایک امکان پیدا ہوا تھا۔ اس امکان کو زندہ رکھنے کے لیے اگلی نسلوں نے بقا کی جنگ لڑی۔ اس جنگ میں کامیابیاں بھی ملیں، شکستیں بھی۔ کچھ خواب پورے ہوئے، کچھ بکھر گئے۔ ایک بازو جدا ہوا۔ کئی بار ریاست اپنے ہی تضادات میں الجھی۔ مگر ملک باقی رہا۔ یہ بقا معمولی بات نہیں۔ اسے تسلیم کیے بغیر پاکستان کی پوری داستان سمجھ میں نہیں آتی۔

لیکن بقا منزل نہیں ہوتی۔ بقا صرف اتنا وقت دیدتی ہے کہ کوئی قوم اپنے مقصد کی طرف بڑھ سکے۔ اگر اناسی برس بعد ہمارا سب سے بڑا قومی فخر صرف یہ رہ جائے کہ ہم اب بھی موجود ہیں، تو شاید ہمیں اپنے وجود سے بڑا سوال پوچھنے کی ضرورت ہے: ہم موجود کیوں ہیں؟

اور اس سوال کا جواب شاید اسی جگہ سے نکلتا ہے جہاں راشد صاحب کے مضامین ہمیں لا کھڑا کرتے ہیں۔ اگر پاکستان ایک تاریخی ضرورت کے جواب میں بنا تھا، تو اب اسے ایک تاریخی ذمہ داری کے جواب میں بننا ہے۔ ہمیں پاکستان ملا نہیں تھا۔ ہمیں پاکستان سپرد کیا گیا تھا۔ یہ فرق معمولی نہیں۔ ملا ہوا مال خرچ کیا جاتا ہے۔ سپرد کیا ہوا مال سنبھالا جاتا ہے، بڑھایا جاتا ہے اور آگے منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ وطن ہمارے بزرگوں کی ذاتی ملکیت نہیں تھی کہ وہ ہمیں صرف........

© Daily Urdu