Be Jan Bolta Hai Maseeha Ke Hath Mein
بے جان بولتا ہے مسیحا کے ہاتھ میں
رمضان کے آخری عشرے میں اُٹھائے جانے والے ایک حلف کا تلفظ روزے کی حالت میں سن کر ہماری بھی وہ حالت ہوئی جو ہمارے صوبے کے گورنر صاحب کی گورنری کا حلف اُٹھاتے وقت ہوئی ہوگی۔ بھلا کیسی حالت؟ اس مختصر سوال کا مسکت جواب جونؔ ایلیا مرحوم پہلے ہی دے گئے ہیں، جو آج بھی حسبِ حال، ہے۔ فرمایا:
کوئی حالت نہیں، یہ حالت ہے یہ تو آشوب ناک صورت ہے
ہمارے ہاں حلف اُٹھانے کی جو آشوب ناک صورت رائج ہے وہ ہمیں بتاتی ہے کہ "اے کَلّے بندے دا کَم نئیں" یعنی اکیلا چنا اپنے بل بوتے پر آپ حلف اُٹھا کر بھاڑ نہیں پھاڑ سکتا۔ ایک طاقتور شخص حلف اُٹھواتا ہے تب جاکر دوسرا نحیف و نزار شخص حلف اُٹھا پاتا ہے۔ آپ نے خود دیکھا ہوگا کہ اوّل الذکر شخص حلف کی عبارت پڑھ پڑھ کر بولتا چلا جاتا ہے اور ثانی الذکر شخص رٹُّو طوطا (یا توتا) بنا اُسے دُہراتا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے پہلے شخص کو دوسرے شخص کا مسیحا جانیے۔ مسیحا کے ہاتھوں جو ہوتا ہے وہ نیچے ناسخؔ کے شعر میں آتا ہے۔
خوشی کی خبر یہ ہے کہ اِس اچانک اور غیر مترقبہ گورنری کا حلف اُردو میں لیا گیا اور اُردو میں دیا گیا۔ تاہم اُردو ذریعۂ تعلیم کا خاتمہ "بالانگریزی" ہوجانے کے باعث اُردو کی عام مانوس تراکیب سے ناواقفیت اب ہمارے خواص میں بھی عام ہوتی جارہی ہے۔ یہ ناواقفیت ترقی کرتے کرتے بھلا کس اعلیٰ ترین درجے تک جا پہنچی ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ حلف لینے والی اعلیٰ ترین شخصیت نے حلف کی تحریری اُردو عبارت کے مطابق گورنری کے فرائض کی "کما حُقّہ" انجام دہی کا ذکر کیا تو گورنر صاحب نے بھی اُنھیں کا اعلیٰ ترین........
